انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 453

انوار العلوم جلدے ۴۵۳ دعوة الامير کو جو اپنی خوبصورتی اور دل آویزی کے سبب اپنوں اور غیروں سب کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے فی الواقع دنیا کے سامنے پیش کیا ہے یا نہیں۔ اور کیا آپ نے ان مفاسد کو اسلام سے دور کیا ہے یا نہیں جو اس کی پاک تعلیم میں اللہ سے دور اور خود غرض ملاؤں نے ملا دیئے تھے ۔ اس سوال کو حل کرنے کے لئے میں مثال کے طور پر چند موٹی موٹی باتیں جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں جن سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کی شکل کو اس وقت لوگوں نے کیسا بدل دیا تھا اور حضرت اقدس نے کس طرح اس کی شکل کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔ مذہب کا نقطہ مرکزی جس کے گرد باقی سب مسائل چکر لگاتے ہیں یا یہ کہ اسلام کی وہ جڑ جس کے لئے باقی سب عقائد اور اعمال بمنزلہ شاخوں اور پتوں کے ہیں ایمان باللہ ہے ۔ تمام عقائد اس کی تائید کے لئے ہیں اور تمام اعمال اس کی تثبیت کے لئے اور ایمان باللہ کے اجزاء میں سے سب سے بڑا جزو ایمان بالتوحید ہے۔ رسول کریم نے جس وقت ہے کہ دعوی کیا اور اس وقت تک کہ آپ فوت ہوئے لا اله الا اللہ کی تعلیم کا اعلان جاری رکھا ہر ایک قسم کی تکلیف برداشت کی مگر اس تعلیم کا اظہار ترک نہ کیا حتی کہ وفات کے وقت بھی آپ کو اگر کوئی خیال تھا تو یہی کہ یہ تعلیم جسے اس فو ، اس قدر قربانیوں کے بعد آپ نے قائم کیا تھا دنیا سے مٹ نہ جاوے - اے بادشاہ! ایک مسلمان کا دل پگھل جاتا ہے اور اس کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جب وہ احادیث اور تاریخوں میں یہ پڑھتا ہے کہ مرض موت میں جب کہ شدت مرض سے آپ کے جسم پر پسینہ آ آجاتا تھا اور بیماری آپ کے باریک دربار یک اعصاب پر اپنا اثر کر رہی تھی آپ کا کرب اور آپ کی تکلیف اور بھی بڑھ جاتی تھی جب آپ یہ خیال فرماتے تھے کہ کہیں لوگ میرے بعد اس تعلیم کو بھول نہ جائیں اور شرک میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور آپ اس وقت کی تکلیف میں بھی اپنے نفس کو بھولے ہوئے تھے اور امت کی فکر سے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کروٹیں بدل بدل کر فرمارہے تھے کہ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ١٨٢ اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا۔ جس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ دیکھنا میری عمر بھر کی تعلیم کے خلاف میری وفات کے بعد مجھی کو پوجنے نہ لگ جانا اور توحید الہی کی تعلیم کو بھول نہ جانا۔ یہ مرض موت میں آپ کا کرب اور توحید الہی کی محبت ایک ایسا دردناک واقعہ تھا کہ آپ سے محبت رکھنے والا انسان اس واقعہ کے دردناک اثر کے ماتحت شرک کے قریب بھی کبھی نہیں جا