انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 452

انوار العلوم جلدے ۴۵۲ دعوة الامير لائے تھے ۔ سنو ! علم اس طرح جاتا ہے کہ عالم دنیا سے گزر جاتے ہیں اور آپ نے یہ فقرہ تین دفعہ بیان فرمایا ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت امت محمدیہ نہایت خطرناک حالت کو اختیار کرنے والی ہے جب کہ علم دنیا سے اٹھ جائے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ایک فرقہ ایسا ہو گا جو حق پر ہو ہو گا اور وہ فرقہ ہو گا جو صحابہ کے رنگ میں رنگین ہو گا اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے رنگ میں رنگین صرف مسیح موعود کی جماعت ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ اس امت کا پہلا حصہ اچھا ہے یا آخری - پس مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابی سے مراد مسیح موعود کی جماعت ہے اور حق بھی یہی ہے کہ مسیح موعود کی جماعت ہو کیونکہ کوئی جماعت صحابہ کی طرح نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ کسی مرسل من اللہ کی صحبت یافتہ نہ ہو ۔ خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ میں سے علم اور دین کے مٹ جانے پر مسیح موعود کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ پھر اسلام کو قائم کرنے کا وعدہ کر چکا ہے۔ پس مسیح موعود ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شخص جو مدعی ہو اسلام کی اصل تعلیم کو قائم کرنے والا اور قرآن کریم کے صحیح علوم بیان کرنے والا ہو اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مسیح موجود نہیں ہو سکتا اور جو آخری زمانے کے پر رفتن ایام میں اسلام کی تعلیم کو لوگوں کے خیالات سے پاک کرے اور اس کی خوبی کو دنیا پر ظاہر کرے اور مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی کا نظارہ دکھاو ہے، اس کے سوا کوئی اور شخص مسیح موعود نہیں ہو سکتا اور جب کہ یہ بات ثابت ہو گئی تو مسیحیت کے مدعی کے دعوے کو پرکھنے کے لئے ایک راہ ہمارے لئے یہ بھی کھل گئی ، ہم دیکھیں کہ کیا فی الواقع اسلام اس وقت سر تا پا اپنی اصل شکل کو چھوڑ چکا ہے۔ دوسرے یہ کہ کیا اس شخص نے فی الواقع اس کو اس کی اصل صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے ۔ اسلام کا بالکل بدل جانا اور اپنی حقیقت سے دور ہو جانا تو ایسا مسئلہ ہے جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں کوئی عقلمند بھی اس کا منکر نہ ہو گا اور کوئی منکر بھی کب ہو سکتا ہے جب کہ خدا تعالٰی کا فعل ثابت کر رہا ہے کہ اس وقت مسلمان مسلمان نہیں رہے اور پھر اسلام کی موجودہ شکل جو خود مسلمانوں کو تسلی نہیں دے سکتی وہ آپ اس امر کی گواہ ہے کہ اسلام اس وقت بگڑ چکا ہے پس صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب نے حقیقی اسلام