انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 454

انوار العلوم جلدے ۴۵۴ دعوة الامير سکتا تھا مگر اے بادشاہ ! آپ دیکھتے ہیں کہ مسلمان کہلانے والوں میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو کھلم کھلا اس تعلیم کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔ وہ کون سا مسلمان ہے جو آج سے تیرہ سو سال پہلے یہ و ہم بھی کر سکتا تھا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے علمبردار کسی وقت قبروں پر سجدے کریں گے اپنے بزرگوں کے مقامات کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں گے انسانوں کو عَالِمُ الْغَيْبِ قرار دیں گے گے ، اولیاء اللہ کو خدا تعالیٰ کی قدرت کا مالک سمجھیں گے، مردوں سے مرادیں مانگیں گے ، قبروں پر نیازیں چڑھائیں گے اپنے پیروں کی نسبت یہ یقین رکھیں گے کہ یہ جو چاہیں اللہ تعالی سے منوا لیں گے اور ان کو حاضر وناظر جانیں گے اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کے نام پر قربانیاں دیں گے اور پھر اس سب پر مزید ظلم یہ کریں گے کہ دعوی کریں گے کہ یہ سب تعلیم قرآن کریم کی اور رسول کریم ا کی ہے مگر مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک جس جس جگہ مسلمان رہتے ہیں یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور کثیر حصہ مسلمانوں کا مذکورہ بالا باتوں میں سے کسی نہ کسی بات کا مرتکب ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس سوزو سوز و گداز کو دیکھ کر اللہ تعالی نے آپ کے مزار مبارک کو تو ان بدعات سے بچا لیا مگر دیگر بزرگان اسلام کی قبروں پر آج کل ہندوؤں کے مندروں سے کم مشرکانہ رسوم نہیں ہوتیں۔ یقینا اگر آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر دیکھتے تو ان لوگوں کو مسلمان خیال نہ فرماتے بلکہ کسی اور مشرکانہ دین کے پیرو خیال کرتے ۔ وہ شاید کہا جائے کہ یہ خیالات تو جاہل لوگوں کے ہیں علماء ان خیالات سے بیزار ہیں مگر حق یہ ہے کہ کسی قوم کی حالت اس کے اکثر افراد سے دیکھی جاتی ہے۔ جب مسلمانوں میں سے اکثر ان خیالات کے پیرو ہیں تو یہی فیصلہ کرنا ہو گا کہ مسلمانوں کی حالت بلحاظ توحید کے گر گئی ہے اور اللہ کے اصل کو جو اسلام کی جان تھا بھلا بیٹھے ہیں مگر یہ بھی درست نہیں کہ عوام الا اللـ الناس ہی ان عقائد کے قائل ہیں ان عوام الناس کے پیر اور مولوی بھی ان کے خیالات سے متفق ہیں اور اگر بعض ان میں سے دل سے متفق نہیں تو کم سے کم ان کی حالت بھی اس قدر خراب ہو گئی ہے کہ وہ ظاہر میں عوام الناس کے خیالات کا رد نہیں کر سکتے اور یہ بات بھی اس بات کی علامت ہے کہ ایمان مٹ گیا ہے ۔ بعض فرقے مسلمانوں میں سے ایسے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ شرک سے بکلّی مجتنب ہیں بلکہ وہ دوسرے لوگوں پر ناراض ہوتے ہیں کہ انہوں نے شرک کر کے اسلام کو