انوارالعلوم (جلد 7) — Page 449
انوار العلوم جلدے ۴۴۹ دعوة الامير نشہ میں مسلمانوں کو جبراً مسیحی بنانے لگیں تو ان کی نسبت ہر شریف آدمی اپنے دل میں کیا کہے گا؟ اگر ان کے اس فعل کو ہم گندے سے گندہ فعل خیال کریں گے تو کیوں اسی قسم کا فعل اگر مسیح موعود کریں گے تو وہ بھی قابل اعتراض نہ ہوں گے؟ یقینا تلوار سے اسلام میں لوگوں کو داخل کرنا اسلام کے لئے مضر ثابت ہوگانہ کہ مفید - وہ ہر شریف الطبع اور آزادی پسند آدمی کو اسلام سے متنفر کر دے گا۔ پس تلوار چلانے کے لئے مسیح کی آمد کی ضرورت نہیں ان کا یہی کام ہو سکتا ہے کہ وہ دلائل سے اسلام کو غالب کریں اور دلائل سے اور مشاہدات کی تائید سے اسلام کو دوسرے مذاہب پر مرزا صاحب غالب کر چکے ہیں۔ اب اس کام کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا کہ مسیح آکر کریں پس مرزا صاحب ہی مسیح موعود ہیں کیونکہ انہوں نے وہ کام کر کے دکھا دیا جو مسیح موعود کے لئے مقرر تھا۔ اس جگہ پر شاید یہ کہا جائے کہ دلائل تو پہلے بھی موجود تھے پھر یہ کیونکر سمجھا جائے کہ مرزا صاحب نے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر تلوار موجود ہو اور اس کا چلانے والا موجود نہ ہو تو نہیں کہہ سکتے کہ دشمن مغلوب ہو جائے گا۔ دشمن تو تبھی مغلوب ہو گا جب اس تلوار کا چلانے والا موجود ہو اور یہاں تو اسلام کا یہ حال تھا کہ تلوار دلائل کی موجود تھی مگر لوگ صرف یہی نہیں کہ تلوار چلانا نہیں جانتے تھے بلکہ اس امر سے بھی نا واقف تھے کہ تلوار موجود ہے۔ یہ حضرت اقدس ہی کا کام تھا کہ آپ نے قرآن کریم کا فہم اللہ تعالی سے پاکر اسلام کے غلبے کے ان دلائل کو جو اس زمانے کے متعلق تھے مستنبط کیا اور پھر ان دلائل کو غیر مذاہب کے مقابلے میں استعمال کیا اور دوسرے لوگوں کو ان کا استعمال سکھایا۔ پس آپ کی آمد سے ہی اسلام غالب ہو اور نہ جس طرح ہے تو بچی کے توپ خود اپنی فوج کے لئے مصر ہوتی ہے اسی طرح قرآن کریم اپنے عارف کی عدم موجودگی کے سبب مسلمانوں کے لئے مصر ثابت ہو رہا تھا اور اس کے غلط استعمال سے وہ ہلاک اور تباہ ہو رہے تھے لیکن حضرت اقدس علیہ السلام نے دعوی کیا تو پھر اس کلام کے وہ اثرات ظاہر ہوئے اور آپ نے ایسے دلائل کے ساتھ اسلام کی طرف سے دشمنوں کا مقابلہ کیا کہ مقابلہ کرنا تو الگ رہا دفاع بھی ان کے لئے مشکل ہو گیا اور بعض تو ان میں سے حکومت کے آگے چلانے لگے کہ وہ جبراً حضرت اقدس کو اس مقابلہ سے روک دے اور روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ اب اسلام ادیان باطلہ پر غالب ہو کر رہے گا اور اژدھے کی طرح ان کو نگل جائے گا۔