انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 450

انوار العلوم جلد ۴۵۰ دعوة الامير پانچویں دلیل تجدید دین پانچویں دلیل حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰة والسلام کے دعوے کی صداقت پر یہ ہے کہ آپ نے اسلام کی اندرونی اصلاح بھی اسی رنگ میں کر دی ہے کہ جس رنگ میں اس کی اصلاح مسیح و مہدی کے سپرد تھی پس معلوم ہوا کہ آپ ہی مسیح موعود ہیں۔ میرے نزدیک سوا ان مولویوں کے جو بحث مباحثے کی وجہ سے ضد اور تعصب کا شکار ہو گئے ہیں باقی سب تعلیم یافتہ لوگ اس امر کا اقرار کریں گے کہ آج اسلام وہ اسلام نہیں رہا جو رسول کریم اللہ کے وقت میں تھا۔ ہر شخص کا دل محسوس کرتا ہے کہ اسلام میں کوئی کمی آگئی ہے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ یا تو وہ زمانہ تھا کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے رُبَمَا بَود الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ (۱۸۲۔ بہت دفعہ کا فر بھی چاہتے ہیں کہ کاش وہ مسلمان ہوتے اور ایسی اعلیٰ درجے کی تعلیم پر عمل کرتے اور یا آج یہ زمانہ ہے کہ اسلام سب کا محل اعتراض بن رہا ہے ۔ غیروں کو تو اس نے کیا تسلی دینی تھی خود مسلمانوں میں سے تعلیم یافتہ لوگ اس کے بہت سے مسائل پر شک و شبہ رکھتے ہیں ، کوئی اس کی اصولی تعلیم پر معترض ہے ، کوئی اس کی اخلاقی تعلیم پر حرف گیر اور کوئی اس کی عملی تعلیم کی نسبت متردد - وہ یقین اور وثوق اب پیدا نہیں کرتا جو آج سے پہلے اپنے ماننے والوں کے دلوں میں پیدا کیا کرتا تھا اور اسی وجہ سے اسلام کی خاطر لوگ اس قربانی کے لئے بھی تیار نہیں جس کے لئے وہ پہلے تیار ہوا کرتے تھے اب تین باتوں میں سے ایک ضرور ماننی پڑے گی یا تو یہ کہ اسلام کی تاثیر کی نسبت جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ ایک افسانے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا بزرگوں کی نسبت پچھلوں کی حسن ظنی ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ یا یہ ماننا پڑے گا کہ اسلام پر آج کل کوئی عمل ہی نہیں کرتا یا یہ کہ اسلام میں ہی تغییر آگیا ہے اس لئے اب اس پر عمل کچھ مفید نہیں ہوتا اور یہ آخری بات ہی درست ہے کیونکہ پہلے زمانے میں جو اس کا اثر تھا وہ روایتوں سے ہی ثابت نہیں، دنیا کے چاروں گوشوں میں