انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 443

انوار العلوم جلدے ۴۴۳ دعوة الامير غرض یہ سوال بلا شافی جواب کے پڑا تھا اور لوگوں کے دلوں کو اندر ہی اندر کھا رہا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم سے استدلال کر کے اس نقطہ نگاہ کو ہی بدل دیا جو اس وقت تک دنیا میں قائم تھا اور بتایا کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے کہ وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ۱۸۱ کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے رسول نہیں بھیجا پس ہر ملک اور ہر قوم میں اللہ تعالی کے رسول گزر چکے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہندوستان بلا نبیوں کے تھا یا چین بلا نبیوں کے تھا یا روس بلا نبیوں کے تھا یا افغانستان بلا نبیوں کے تھا یا افریقہ بلا نبیوں کے تھا یا یو رپ بلا نبیوں کے تھا یا امریکہ بلا نبیوں کے تھا نہ ہم دوسری اقوام کے بزرگوں کا حال سن کے ان کا انکار کرتے ہیں اور ان کو جھوٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ ہر قوم میں نبی گزر چکے ہیں۔ دوسری اقوام میں عبیوں اور شریعتوں اور کتابوں کا پایا جانا ہمارے مذہب کے خلاف اور اس کے راستے میں روک نہیں ہے بلکہ اس میں اس کی تصدیق ہے۔ ہاں ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ زمانے کے حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہلے مختلف اقوام کی طرف نبی بھیجے اور بعد میں جب انسان اس کامل شریعت کو قبول کرنے کے قابل ہو گیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معرفت آئی تو اس نے آپ کو سب دنیا کی طرف مبعوث کر کے بھیج دیا۔ پس کوئی قوم بھی ہدایت سے محروم نہیں رہی اور باوجود اس کے اسلام ہی اس وقت ہدایت کا راستہ ہے کیونکہ یہ آخری دین اور مکمل دین ہے ۔ جب مکمل دین آگیا تو پہلے دین منسوخ کئے گئے اور ان دنوں کے منسوخ کئے جانے کی یہ بھی علامت ہے کہ اللہ تعالٰی نے اب ان کی حفاظت چھوڑ دی ان میں انسانی دست دست بُرد برد برد ہوتی رہتی ۔ ہے اور وہ صداقت صدا سے کوسوں دور جاپڑے جا پڑے۔ ہیں اور ان کی شکلیں مسخ ہو چکی ہیں وہ سچے ہیں بلحاظ اپنی ابتداء کے اور جھوٹے ہیں بلحاظ اپنی موجودہ شکل کے ۔ یہ نقطہ نظر جو آپ نے قائم کیا ایسا ہے کہ اس سے کوئی شخص پیچھے ہٹ نہیں سکتا کیونکہ اگر اس اصل کو تسلیم نہ کیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالٰی بعض بندوں کی ہدایت کرتا ہے اور بعض انسانوں کو ہلا ہدایت کے سامان پیدا کرنے کے یونہی چھوڑ دیتا ہے اور اسے عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی اور اگر وہ اس اصل کو تسلیم کر لیں تو ان کو اسلام کی صداقت کا قائل ہونا پڑتا ہے کیونکہ اسلام سب سے آخری دین ہے اور اس لئے بھی کہ اسلام ہی نے اس صحیح اور درست اصل کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔ یہ حربہ ایسا زبردست حربہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ اور وسیع الخیال جماعت جو خواہ کسی