انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 444

انوار العلوم جلدے ۴۴۴ دعوة الامير مذہب سے تعلق رکھتی ہو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی کیونکہ اگر اس اصل کو جو حضرت اقدس نے پیش کیا ہے چھوڑ دیں تو خدا تعالیٰ کو بھی ساتھ ہی چھوڑنا پڑتا ہے اور یہ وہ کر خداتعالی نہیں سکتے اور اگر وہ اس اصل کو قبول کر لیں تو پھر اسلام کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے اور اس کے سوا ان کے لئے اور کوئی چارہ نہیں پس دنیا کے نقطہ نگاہ کو جو پہلے نہایت تنگ تھا بدل دینے سے حضرت مسیح موعود نے اسلام کے غلبہ کا ایک یقینی سامان پیدا کر دیا ہے ۔ چوتھا حربہ جو آپ نے اسلام کو غالب کرنے کے لئے استعمال کیا اور جس نے اسلام کے خلاف تمام مباحثات کے سلسلے کو بدل دیا ہے اور غیر مذاہب کے پیروؤں کے ہوش اڑا دیئے ہیں یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے رائج الوقت علم کلام کو بالکل بدل دیا اور اس کے ایسے اصول مقرر فرمائے کہ نہ تو دشمن انکار کر سکتا ہے اور نہ ان کے مطابق وہ اسلام کے مقابلے میں ٹھر سکتا ہے اگر وہ ان اصولوں کو رد کرتا ہے تب بھی مرتا ہے اور اگر قبول کرتا ہے تب بھی مرتا ہے نہ فرار میں اسے نجات نظر آتی ہے نہ مقابلے میں حفاظت۔ آپ سے پہلے تنقید اور مباحثے کا یہ طریق تھا کہ ایک فریق دوسرے فریق پر جو چاہتا اعتراض کرتا چلا جاتا تھا اور اپنی نسبت جو کچھ چاہتا تھا کہتا چلا جاتا تھا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب مناظرے کا میدان غیر محدود ہو جائے تو مناظرے کا نتیجہ کچھ نہیں نکل سکتا۔ جب چند سوار دوڑنے لگتے ہیں تو بعض قواعد کے مطابق دوڑتے ہیں تب جا کر جیتنے والے کا پتہ لگتا ہے ۔ اگر کوئی کسی طرف کو اور کوئی کسی طرف کو دوڑ جائے تو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ کون جیتا۔ اس طرح دوڑنے والوں کے متعلق ہم کبھی بھی صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے اسی طرح مذہبی تحقیق کے معاملے میں جب تک حد بندی نہ ہو رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ پہلے یہ طریق تھا کہ ہر شخص کو جو بات اچھی معلوم ہوئی خواہ کسی کتاب میں پڑھی ہو اپنے مذہب کی طرف منسوب کر دی اور کہہ دیا کہ دیکھو ہمارے نہ مذہب کی تعلیم کیسی اچھی ہے گویا اصل مذہب کے متعلق کوئی گفتگو ہی نہ ہوتی تھی بلکہ علماء اور مباحثین کے ذاتی خیالات پر گفتگو ہوتی رہتی تھی نتیجہ یہ نکلتا نی نکلتا تھا کہ متلاشیان حق کو فیصلہ کرنے کا موقع نہ ملتا تھا۔ آپ نے آکر اس طریق مباحثہ کو خوب وضاحت سے غلط ثابت کیا اور بتایا کہ اگر خدا تعالی کی طرف سے آنے والی کتاب ہماری ہدایت کے لئے آئی ہے تو چاہئے کہ جو کچھ وہ ہمیں منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہو اور جن دلائل کی وجہ سے منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہوں کیونکہ اگر خدا کا کلام دعوے اور دلائل