انوارالعلوم (جلد 7) — Page 407
دعوة الامير انوار العلوم جلدے ۴۰۷ ہتک خیال کرتے ہیں اور اس کی جگہ آداب اور تسلیم کہتے ہیں بلکہ ہندوؤں کی نقل میں بندگی تک کہہ دیتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ میں آپ کے سامنے اپنی عبودیت کا اظہار کرتا ہوں اور یہ الفاظ اس لفظ کی جگہ استعمال کرنے جس کے معنے سلامتی اور حفاظت کے ہیں در حقیقت ملاعنہ ہی ہے۔ کیونکہ جب کوئی شخص شرک کے کلمات کہتا ہے یا خدا کیلئے جس فرمانبرداری کا اظہار مخصوص ہے اس کا اظہار بندوں کیلئے کرتا ہے وہ خدا کی لعنت ایک دوسرے پر ڈالتا ہے ۔ لفظ آداب جس کا مسلمانوں میں رواج زیادہ ہے اس کا در حقیقت یہی مطلب ہے کہ ہم بندگی اور تسلیم کہتے ہیں اور یہ لفظ اس لئے اختیار کر لیا گیا ہے تا ایسے مشرکانہ الفاظ بار بار استعمال کرنے سے دل میں جو ملامت پیدا ہوتی ہے اس کے اثر سے محفوظ ہو جائیں۔ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں عزت رسول کریم ال نے یہ نہ ایک تمرینی تغییر بوجہ دین کے نہ ہوگی بلکہ بوجہ مل اور سیاسی اعمال وغیرہ کے ہوگی ۔ میں سے ا ally ۱۶ ابن مردویہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آنحضرت اللہ نے فرمایا ہے کہ اشراط اشراط ساعت ایک یہ بھی ہے کہ اس وقت صاحب مال کی تعظیم ہو گی ۔ ۔ یہ حالت بھی اب پیدا ہے وہ قدیم دستور جو خاندانی وجاہت کو سب بواعث عزت پر مقدم کئے ہوئے تھا اب بالکل مٹ گیا ہے اور عزت کا ایک ہی معیار ہے کہ انسان صاحب مال ہو ، پہلے مالدار اور دولتمند لوگ علماء کی مجالس میں حاضر ہوتے تھے اور اب علماء اس امر میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کسی امیر کی دوستی کا فخر حاصل ہے یا یوں کہئے کہ اس کی ڈیوڑھی پر مجبتہ سائی کی عزت نصیب ہے۔ اسی طرح حذیفہ ابن الیمان سے روایت ہے کہ ایک زمانہ مسلمانوں پر آنے والا ہے کہ ایک شخص کی تعریف کی جائے گی کہ مَا أَجْلَدَهُ وَاظْرَفَهُ وَاعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانِ (۱۱۸ یعنی کہا جائے گا کہ فلاں شخص کیا ہی بہادر ہے کیا ہی خوش طبع اور نیک اخلاق ہے اور کیا ہی عقلمند ہے حالانکہ اس شخص کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا۔ یہ حالت بھی اس وقت پیدا ہے کوئی شخص خواہ کیسا ہی بے دین ہو مسلمانوں کے حقوق کا نام لے کر کھڑا ہو جائے جھٹ مسلمانوں کا لیڈر بن جائے گا کوئی نہیں پوچھے گا کہ یہ شخص اسلام پر تو قائم نہیں اسلام کا لیڈر اسے اللہ تعالٰی نے کیونکر بنا دیا اتنا ہی کافی سمجھا جائے گا کہ یہ عمدہ لیکچرار ہے یا خوب دانائی سے اپنے حریف کا مقابلہ کر سکتا ہے یا سیاسی ضرورت کے پورا کرنے کیلئے اپنی جان دینے کو تیا ر ہے ۔