انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 408

انوار العلوم جلدے ۰۸ دعوة الامير ایک تغییر رسول کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مومن ذلیل ہوں گے اور لوگوں کے ڈر سے چھتے پھریں گے ۔ ۔ حضرت ابن عباس سے ابن مردویہ نے روایت کی ہے آنحضرت ﷺ نے اشراط ساعت میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ مومن لونڈی سے بھی زیادہ ذلیل سمجھا جائے گا۔ ۱۲۰۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ لونڈی سے بھی لوگ رشتہ محبت قائم کر لیتے ہیں اور اس سے شادی کر لیتے ہیں لیکن مومن سے تعلق پیدا کرنا ان دنوں کوئی پسند نہیں کرے گا۔ اسی طرح حضرت علی سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ ان دنوں نیک چھپ چھپ کر پھریں گے ۔ ۱۲۱۔ یہ حالت بھی ایک عرصے سے پیدا ہے مومنوں سے تعلق کو نا جائز سمجھا جاتا ہے۔ جو بھی سچا متبع قرآن مجید اور سنت رسول کریم اللہ کا ہو اس سے بدتر انسان مسلمانوں میں کوئی نہیں سمجھا جاتا حتی کہ مسیح موعود کی آمد کے بعد تو یہ علامت ایسی ظاہر ہو گئی ہے کہ فاحشہ عورتوں اور بے نمازوں اور خائنوں اور جھوٹ بولنے والوں اور اللہ اور رسول کو بُرا کہنے والوں سے ملنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا تو جائز سمجھ جاتا ہے لیکن جن لوگوں نے آسمانی آواز پر لبیک کہا ہے ان کو دھتکارا جاتا ہے اور ان سے دشمنی رکھی جاتی ہے۔ ایک علامت اس زمانے کی رسول کریم ال نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں عربی کا چر چا کم ہو جائے گا۔ ۱۲۲۔ چنانچہ ابن ابن عباس سے مردویہ نے روایت کی ہے کہ آپ نے اشراط ساعت میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت صفوف تو بڑی لمبی ہوں گی لیکن زبانیں مختلف ہوں گی ۱۲۳۔ اور یہ نقشہ حج کے ایام میں خوب نظر آتا ہے حج کی بڑی اغراض میں سے ایک غرض یہ بھی تھی کہ اس کے ذریعے سے اجتماع اسلامی قائم رہے لیکن عربی زبان کو ترک کر دینے کے سبب وہاں لوگ جمع ہو کر بھی فریضہ حج ادا کرنے کے سوا کوئی اجتماعی یا ملی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے اگر مسلمان عربی زبان کو زندہ رکھتے تو یہ زبان دنیا کے چاروں گوشوں کے لوگوں کو ایک ایسی مضبوط رہتی میں باندھ دیتی جو کسی دشمن کے حملے سے نہ ٹوٹتی۔ ایک حالت اس وقت کے تمدن کی رسول کریم اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت عورتیں باوجو د لباس کے ننگی ہوں گی ۱۲۴۔ یہ حالت بھی اس وقت دو طرح پیدا ہو رہی ہے ایک تو اعلیٰ کپڑا اس قدرستا ہو گیا ہے کہ عام طور پر لوگ وہ کپڑا پہن سکتے ہیں جو پہلے امراء تک