انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 406

انوار العلوم جلدے ٦٠ دعوة الامير ١١٣ ساعت میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ الْجَهل ۱۱۲ علم اٹھ جائے گا اور جہل ظاہر ہو جائے گا۔ اسی مضمون کی روایت بخاری نے ؟ نے بھی بفرق قلیل انس“ سے بیان کی ہے۔ یہ تغیر بھی پیدا ہو چکا ہے ۔ ایک وہ وقت تھا کہ مسلمانوں کی عورتیں بھی فقیہ تھیں حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ انصار کی عورتیں بھی عمر سے زیادہ قرآن جانتی ہیں جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ بچہ بچہ قرآن کریم سے ایسا واقف ہے کہ وہ بڑے بڑے عالم کے فتوے پر جرح کر سکتا ہے اور نادانی اور جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ دلائل کی بناء پر حضرت عائشہ کے علم اور آپ کی ثقاہت کا کون انکار کر سکتا ہے۔ مگر آج علم دین کا یہ حال ہے کہ ایسے لوگوں کے سوا جو دوسرے علوم سیکھنے کی قابلیت نہیں رکھتے اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتا اور جو علم صرف اس لئے پڑھا جائے کہ اس کے پڑھنے میں کچھ خرچ نہیں ہوتا بلکہ مفت میں روٹیاں مل جاتی ہیں اس میں کیا برکت ہو سکتی ہے اور اس نیت سے پڑھنے والے دنیا کو کیا نفع پہنچا سکتے ہیں۔ اس حدیث کی تائید اور بہت سی احادیث سے بھی ہوتی ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت سب قسم کے علم اٹھ جائیں گے بلکہ اس سے مراد صرف علوم دینیہ ہیں ورنہ علوم دنیاوی کی زیادتی احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ سے ترنزی میں روایت ہے کہ آخری زمانے میں دینی اغراض کے سوا اور اغراض کیلئے علوم سیکھے جائیں گے ۔ اور یہی حالت اس وقت پیدا ہے ۔ علوم دنیاوی اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ ایک عالم ان کی ترقی پر حیرت میں ہے اور علوم مذہبی اس قدر بے توجہی کا شکار ہو رہے ہیں کہ جتال علماء کہلا رہے ہیں۔ تمدنی حالت رسول کریم ﷺ نے مسیح موعود کے زمانے کی تمدنی حالت کے عود کے زمانے کی تمدنی حالت کا بھی نقشہ کھینچا ہے اور بہت سی علامات ایسی بیان فرمائی ہیں جن سے اس وقت کے تمدن کا پورا نقشہ کھنچ جاتا ہے۔ چنانچہ ان علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت سلام کا طریق بدلا ہوا ہو گا۔ امام احمد بن حنبل، معاذ بن انس سے روایت کرتے ہیں کہ اس امت کی خرابی اور بربادی کے زمانے کی ایک یہ علامت ہوگی اور یہی زمانہ مسیح موعود کا ہے) کہ لوگ آپس میں ملتے ہوئے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ۵ ال گو شراح اس حدیث کے یہ معنے بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد سفلہ لوگوں کا ملتے وقت ایک دوسرے کو گالیاں دیتا ہے مگر در حقیقت اس میں اس سے بھی بڑھ کر ایک اور تغیر کی طرف اشارہ کیا ہے جو سفلوں میں نہیں بلکہ بعض علاقوں کے مسلمان شرفاء میں بھی پایا جاتا ہے اور بندگی اور تسلیم کا رواج ہے۔ ہندوستان میں بڑے لوگ آپس میں سلام کہنا