انوارالعلوم (جلد 7) — Page 405
انوار العلوم جلدے ۴۰۵ دعوة الامير والے ہوں مگر ایسا ایک شخص بھی ان لوگوں میں نہیں پایا جاتا جو مشائخ اور صوفیاء اور اقطاب اور اور ابدال اور علماء اور فضلاء کہلاتے ہیں۔ پس نفس زکیہ کو آج دنیا نے مار دیا ہے اور نفس امارہ کو زندہ کر دیا ہے اور وہی ان کا مطلوب بن رہا ہے۔ ایک علامت رسول کریم اللہ نے اس زمانے کی یہ بتائی ہے کہ اس وقت امانت اٹھ جائے گی ۱۰۸۔ چنانچہ دیلمی نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک اضاعت امانت بھی ہے ۔ امانت اٹھ جانے اور اس کی جگہ خیانت کے لے لینے کا نظارہ نظر آرہا ہے اس کی زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں ، ہر گاؤں اور ہر محلے اور ہر گھر کے لوگ اس تغیر کے تلخ اثر کو محسوس کر رہے ہیں۔ ایک تغیر رسول کریم اللہ نے اس زمانے کی اخلاقی حالت میں یہ بیان فرمایا تھا کہ اس وقت لوگ ماں باپ سے تو حسن سلوک نہ کریں گے لیکن دوستوں سے سلوک کریں گے ۔ چنانچہ ابو نعیم نے حلیہ میں حذیفہ بن الیمان سے روایت کی ہے کہ اس وقت لڑکا اپنے باپ کی تو نا فرمانی کرے گا اور اپنے دوست سے احسان کرے گا۔ یہ تغیر بھی اس شدت کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ ہر شریف آدمی کا دل اس کو دیکھ کر موم کی طرح پکھل جاتا ہے، مغربی تمدن کے دلدادہ اور تعلیم جدید سے روشنی حاصل کرنے والے لوگ اپنے بزرگوں کو پاگل سمجھتے اور ان کی صحبت سے احتراز کرتے ہیں اور اپنے ہم خیال نوجوانوں کی مجالس حیا سوز میں اپنے اوقات صرف کرنے کو راحت سمجھتے ہیں۔ دوستوں کی دعوتوں اور ان کی خاطر و مدارات وغیرہ پر خرچ کرنے کیلئے ان کے پاس روپیہ نکل آتا ہے لیکن غریب ماں باپ کی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف انہیں کبھی توجہ نہیں ہوتی ۔ ہندوستان میں ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ ماں باپ نے بھوکے پیاسے رہ کر اور رات دن محنت کر کے بچوں کو پڑھایا لیکن جب اولاد صاحب علم ہو کر بر سرکار ہوئی تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے برابر بٹھانا بھی عار سمجھا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ ایک اجنبی آدمی ان کو خادم ہی سمجھ سکتا ہے۔ اب تو اس قسم کی ہزاروں مثالیں ہیں لیکن پہلے زمانوں میں اس قسم کی ایک مثال بھی ملنی مشکل ہے۔ علمی جس طرح صبح موعود کے زمانے کی اخلاقی حالت رسول کریم ال نے بیان حالت فرمائی ہے اسی طرح آپ نے اس زمانے کی علمی حالت بھی بیان فرمائی ہے، اس چنانچہ ترندی میں انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم اللہ نے فرمایا ہے کہ اشراط