انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 360

انوار العلوم جلدے ۳۶۰ دعوت الامير بات یہ ہے کہ ہمیں تو الفاظ سے کوئی تعلق نہیں جس بات میں خدا اور اس کے رسول کی عزت ہو ہمیں تو وہی پسند ہے۔ ہم کبھی ایک منٹ کیلئے بھی اس امر کو جائز نہیں سمجھتے کہ رسول کریم ال کے بعد کوئی ایسا شخص آئے جو آپ کی رسالت کو ختم کر دے اور نیا کلمہ اور نیا قبلہ بنائے اور نئی شریعت اپنے ساتھ لائے یا شریعت کا کوئی حکم بدل دے یا جو لوگوں کو رسول کریم اللہ کی اطاعت سے نکال کر اپنی اطاعت میں لے آئے یا آپ رسول کریم اللہ کی اطاعت سے باہر ہو یا کچھ بھی فیض اس کو رسول کریم اللہ کے توسط کے بغیر ملا ہو ۔ اگر ایسا کوئی آدمی آئے تو ہمارے نزدیک اسلام باطل ہو جاتا ہے اور محمد رسول اللہ اس سے اللہ تعالٰی کے جو وعدے تھے جھوٹے ہو جاتے ہیں لیکن ہم اس امر کو بھی کبھی پسند نہیں کر سکتے کہ رسول کریم ال کے وجود کو ایسا سمجھا جائے کہ گویا آپ نے تمام فیوض الہی کو روک دیا ہے اور آپ " بجائے دنیا کی ترقی میں محمد ہونے کے اس کے راستہ میں روک بن گئے ہیں اور گویا نعوذ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ آپ بجائے دنیا کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے اس وصول الی الله کے اعلیٰ مقامات سے محروم کرنے والے ہیں۔ جس طرح پہلا خیال اسلام کیلئے تباہ کرنے والا ہے اسی طرح یہ دوسرا خیال بھی رسول کریم اللہ کی ذات پر ایک خطرناک حملہ ہے اور ہم نہ اسے قبول کرتے ہیں اور نہ اسے برداشت کر سکتے ہیں ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم ال دنیا کے لئے رحمت تھے اور ہمارا پکا یقین ہے کہ یہ بات ہر ایک آنکھ رکھنے والے کو نظر آ رہی ہے آپ نے آکر دنیا کو فیوض سماوی سے محروم نہیں کر دیا بلکہ آپ کے آنے سے اللہ تعالیٰ کے فیوض کی روانی پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ اگر پہلے وہ ایک نہر کی طرح بہتے تھے تو اب ایک دریا کی طرح بہتے ہیں کیونکہ پہلے علم اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا اور علم کامل کے بغیر عرفان کامل بھی حاصل نہیں ہو سکتا اور اب علم اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔ قرآن کریم میں وہ کچھ بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلے کی کتب میں بیان نہیں کیا گیا تھا۔ پس رسول کریم ﷺ کے طفیل لوگوں کو عرفان میں زیادتی حاصل ہوتی ہے اور عرفان میں زیادتی کی وجہ سے اب وہ ان اعلیٰ مقامات پر پہنچ سکتے ہیں جن پر پہلے لوگ نہیں پہنچ سکتے تھے اور اگر یہ ایمان نہ رکھا جائے تو پھر رسول کریم ا کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہ جاتی ہے۔ پس ہم اس قسم کی نبوت سے تو منکر ہیں جو رسول کریم اللہ سے آزاد ہو کر حاصل ہوتی ہو اور اسی وجہ سے ہم رسول کریم ال کے بعد مسیح ناصری کی آمد سے منکر ہیں مگر ہم اس قسم کی نبوت کی نفی نہیں کر سکتے جس سے رسول