انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 361

انوار العلوم جلدے ۳۶۱ دعوت الامير کریم اللہ کی عزت بالا ہوتی ہو ۔ اے امیر! اللہ تعالٰی آپ کے دل کو مہبط انوار بنائے اور آپ کے سینے کو حق کی قبولیت کیلئے وسیع کرے ۔ وہی نبوت پہلے نبی کے سلسلے کو ختم کر سکتی ہے جو شریعت والی نبوت ہو اور وہی پہلے نبی کی شریعت کو منسوخ کر سکتی ہے جو بلا واسطہ حاصل ہو لیکن جو نبوت کہ پہلے نبی کے فیض سے اور اس کی اتباع سے حاصل ہو اور جس کی غرض پہلے نبی کی نبوت کی اشاعت ہو اور اس کی عظمت اور اس کی بڑائی کا اظہار ہو وہ پہلے نبی کی ہتک کرنے والی نہیں بلکہ اس کی عزت کو ظاہر کرنے والی ہے اور اس قسم کی نبوت قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور عقل سلیم اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس امت میں حاصل ہو سکتی ہے اور اگر یہ نبوت اس امت کو حاصل نہ ہو تو پھر اس امت کو دوسرے نبیوں کی امتوں پر کوئی فضیلت نہیں رہتی۔ رسول کریم ال فرماتے ہیں کہ محدث حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں بھی بہت سے گزرے ہیں ۔ ۳۹۔ پس اگر آنحضرت ا کی قوت قدسیہ بھی انسان کو محد ثیت کے مقام تک ہی پہنچا سکتی ہے تو پھر آپ کو دو آپ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہی اور آپ سید ولد آدم اور نبیوں کے سردار کیونکر ٹھرے۔ خیر الرسل ہونے کیلئے ضروری ہے کہ آپ میں بعض ایسے کمالات پائے جائیں جو پہلے نبیوں میں نہیں پائے جاتے تھے اور ہمارے نزد نزدیک یہ کمال آپ میں ہی ہے کہ پہلے انبیاء کے امتی ان کی قوت جذب سے صرف محد ثیت کے مقام تک پہنچ سکتے تھے مگر رسول کریم اللہ کے امتی مقام نبوت تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور یہی آپ کی قوت قدسیہ کا کمال ہے جو ایک مومن کے دل کو آپ کی محبت اور آپ کے عشق کے جذبہ سے بھر دیتا ہے۔ اگر آپ کے آنے سے اس قسم کی نبوت کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر آپ کی مدد دنیا کیلئے ایک عذاب بن جاتی ہے اور قرآن کریم کا وجود بے فائدہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ آپ کی بعثت سے پہلے تو انسان بڑے بڑے درجوں تک پہنچ جاتا تھا مگر آپ کی بعثت کے بعد وہ ان درجوں کے پانے سے روک دیا گیا اور یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم سے پہلی کتب تو نبوت کا درجہ پانے میں محمد ہوا کرتی تھیں یعنی ان کے ذریعہ سے انسان اس مقام تک پہنچ جاتا تھا جہاں سے اللہ تعالی اسے نبوت کے مقام کی تربیت کیلئے چن لیتا تھا لیکن قرآن کریم پر عمل کر کے انسان اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ اگر فی الواقع یہ بات ہو تو اللہ تعالی کے بچے پرستاروں کے دل خون ہو جائیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جائیں کیونکہ وہ تو رحمة للعالمين