انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 359

انوار العلوم جلدے ۳۵۹ دعوت الامير بھی کسی کا نہیں خود حضرت عیسی علیہ السلام کا قول نقل کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔ يَصِيرُ الْمُرِيدُ جُزء الشَّيْخِ كَمَا إِنَّ الْوَلَدَ جُزْءُ الْوَالِدِ فِي الْوِلَادَةِ الطَّبْعِيَّةِ وَنَصِيرُ هَذِهِ الْوَلَادَةُ انفا ولادَةً مَعْنَوبَةً كَمَا وَرَدَ عَنْ عِيسَى صَلَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَنْ بَلِجَ مَلَكُوتَ السَّمَاءِ مَنْ لَّمْ يُولَدْ مَرَّتَيْنِ فَبِالْوِلَادَةِ الْأُولَى يَصِيرُ لَهُ ارْتَبَاطٌ بِعَالَمِ الْمَلَكِ وَبِهَذِهِ الْوِلَادَةِ يَصِيرُ لَهُ ارتباط بِالْمَلَكُوتِ۔ قَالَ اللهُ تَعَالَى وَكَذَلِكَ يُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوْتَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ (۳۸ ، یعنی مرید شیخ کا جزو ہو جاتا ہے جس طرح ولادت طبعی میں بیٹا باپ کا جزو ہوتا ہے اور یہ ولادت اس وقت ولادت معنوی ہو جاتی ہے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے روایت ہے کہ کوئی شخص آسمان کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دو دفعہ پیدا نہ ہو پھر شیخ اپنی طرف سے فرماتے ہیں کہ پہلی ولادت سے تو اسے طبعی دنیا سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور دوسری ولادت سے اسے روحانی دنیا سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالٰی بھی فرماتا ہے کہ اسی طرح آسمان اور زمین پر جو غلبہ ہمیں حاصل ہے ہم ابراہیم کو دکھاتے تھے تا کہ وہ یقین کرنے والے لوگوں میں سے ہو جائے ۔ اِنتَهَى قَوْلُ ا قَوْلُ الشَّيخ۔ مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے کہ شیخ شہاب الدین صاحب سهروردی کے نزدیک ہر انسان کیلئے ایک ولادت معنوی ضروری ہے اور وہ اس کی تائید میں ایک تو قرآن کریم کی آیت پیش کرتے ہیں اور دوسرے حضرت مسیح کا ایک قول پیش کرتے ہیں۔ پس جب ولادت معنوی ایک ضروری شے ہے اور حضرت مسیح اسے روحانی ترقی کیلئے ضروری قرار دیتے ہیں تو کیا مثیل مسیح کیلئے ہی اس ولادت کا وجود محال اور نا ممکن ہے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح کا دوبارہ زندہ ہو کر آنا اللہ تعالٰی کی شان اور اس کے کلام کے خلاف ہے اور اس کے رسول کی عظمت کے منافی ہے اور اس کی باتوں کے صریح مخالف ہے اور جن باتوں پر اس عقیدے کی بناء رکھی گئی ہے وہ قلت تدبیر سے پیدا ہوئی ہیں اور کمی فکر کا نتیجہ ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ اس امت میں سے ایک شخص کو مسیح کے رنگ میں رنگین ہو کر آنا تھا اور وہ ابھی چکا اور اس کے فیض سے بہتوں نے ہدایت پائی اور بہت گم گشتہ راہ سیدھے راستہ پر آگئے۔ چوتھا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم ال کے بعد سلسلہ وحی اور سلسلہ نبوت کو جاری سمجھتے ہیں۔ یہ اعتراض بھی یا تو قلت تدبر کا نتیجہ ہے یا عداوت و دشمنی کا۔ اصل