انوارالعلوم (جلد 7) — Page 18
انوار العلوم - جلدے ۱۸ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۶۱۹۲۲ اور اگر ہم نے اس مشن کو پورا کر لیا تو سمجھ لو کہ ہماری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ بعض لوگ کہہ دیا روحانی اور جسمانی بیماریوں میں فرق کرتے ہیں کہ روحانی بیماریوں کا علاج آہستہ آہستہ ہو جائے گا یہ بہت خطرناک خیال ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ روحانی اور جسمانی بیماریوں میں مشارکت ہے مگر ان میں بہت بڑا افتراق بھی ہے اور وہ یہ کہ جسمانی بیماری میں اگر مرض معلوم ہو جائے اور اس کا علاج نہ کریں تو گو دیر تک علاج نہ کرنے کے سبب سے یہ تو ہو سکتا ہے کہ بیماری بھی ہو جائے یا زیادہ دیر تک علاج نہ کرنے کے سبب سے شاذ و نادر صورتوں میں لا علاج ہو جائے مگر یہی نہیں ہو گا کہ کسی کی بیماری اس لئے لا علاج ہو جائے کہ اس نے بیماری کے معلوم ہو جانے پر کیوں علاج نہیں کیا۔ خواہ بیماری کا علم ہونے پر کوئی علاج نہ کرے مگر جب بھی وہ علاج شروع کرنا چاہے کر سکے گا لیکن روحانی بیماری میں یہ ہوتا ہے کہ جب بیماری کا علم ہو جائے اور پھر علاج نہ کیا جائے تو بیمار پر عذاب نازل کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اس کے علاج میں دقتیں پیش آجاتی تو روحانی بیماری کا علم ہو جانے کے بعد علاج نہ کرنے سے بیماری مضبوط ہو جاتی ہے اور علاج کا موقع ہی بعض دفعہ نہیں ملتا اور علاج بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔ پس روحانی بیماریوں کے علاج سے ہرگز غفلت نہیں کرنی چاہئے ۔ ہیں۔ روحانی حالتیں اور ان کے متعلق احتیاطیں اب میں یہ بتاتا ہوں کہ روحانی حالتیں تین ہوتی ہیں اور ان ان کے لئے تین احتیاطوں کی ضرورت ہے ۔ اول یہ کہ وہ علاج جو اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے دوسرے وہ علاج جو دوسروں سے تعلق رکھتا ہے اور تیسرے وہ علاج جو آئندہ کے متعلق ہوتا ہے۔ اپنے نفس کے علاج کے لئے پہلی بات جو ضروری ہے وہ اجتناب عَنِ الْمَعَاصِی یعنی گناہوں کا ترک کر دینا ہے ۔ اس کی بالکل ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کو کوئی مرض لگ گیا ہو اور وہ اس کا علاج کرائے یہ معاصی بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ صرف اپنی ذات سے تعلق رکھنے والے معاصی اول وہ بیماریاں جو اپنی ذات کی پاکیزگی کے خلاف ہوتی ہیں یعنی وہ بیماریاں جن کا اپنی ذات سے ہی تعلق ہوتا ہے غیر پر ان کا اثر نہیں پڑتا ان میں سے موٹی موٹی بیماریاں یہ ہیں۔