انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 17

انوار العلوم - جلد ۱۷ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء علاج بھی معلوم ہو جائے تو اس کے علاج کی طرف توجہ بھی کرنی چاہئے۔ لیکن یہیں ہمارا فرض ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ بعض بیماریاں ایسی دوسروں کا بھی علاج کرو ہوتی ہیں کہ ان میں اپنا ہی علاج کر کے ہم آئندہ کے لئے محفوظ نہیں ہو جاتے ۔ بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں جیسے انفلوئنزا آسٹریلیا میں یہ ایک خط کے ذریعہ پھیل گیا اور بعض انفرادی ہوتی ہیں اور جس طرح جسمانی وبائیں متعدی ہوتی ہیں اسی طرح روحانی و بائیں بھی متعدی ہوتی ہیں اس لئے جب تم کسی ایسے شخص کے پاس جاؤ گے جو ایسی روحانی بیماری میں مبتلاء ہو گا تو ڈر ہے کہ تم کو بھی وہ نہ لگ جائے ۔ پس صرف اپنا علاج ہی کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ دوسروں کے بھی علاج کرو۔ اگر ملک میں طاعون یا انفلوئنزا پھیلا ہو تو اس سے تمہیں مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ تم ابھی تک اس سے بچے ہوئے ہو کیونکہ ڈر ہے کہ اگر آج طاعون نہیں ہوئی تو کل ہو جائے اور اگر آج صبح انفلوئنزا نہیں ہوا تو شام تک ہو جائے ۔ پس جب تک متعدی بیماریاں ملک میں ہوں اس وقت تک ڈر ہے کہ تم کو بھی نہ لگ جائیں کیونکہ تمہیں دوسروں سے ملنا ہوتا ہے اور اس طرح تم بھی ان کی زد کے نیچے رہتے ہو۔ پس صحت حاصل کرنے کے بعد انسان کی دوسری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کا بھی علاج کرے ۔ تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ صرف دنیا سے بیماری کو دور ہی نہ کیا جائے بلکہ اس کی ۔ حفظ ما تقدم بھی تدبیر کی جائے کہ بیماری ملک میں آئندہ پیدا ہی نہ ہو ۔ متمدن اقوام اسی کو کانی ۔ نہیں سمجھتیں بلکہ وہ کچھ اور بھی کرتی ہیں اور وہ یہ کہ حفظ ما تقدم کا انتظام کرتی ہیں تاکہ پھر بیماری ہی نہ ہو۔ پس تیسری ذمہ داری ہماری یہ ہے کہ ہم ایسا انتظام کر جائیں کہ آئندہ روحانی امراض نہ پھیلیں۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ اس طرح کہ ہم اپنی اولاد کو ان بیماریوں سے محفوظ کر جائیں۔ وہ آگے اپنی اولاد کو اور وہ اپنی اولاد کو اسی طرح یہ سلسلہ چلتا جائے ۔ غرض ہمیں چاہئے کہ پہلے ہم اپنی بیماریوں کو دور کریں پھر اپنے ہمسایوں کی بیماریوں کو دور کریں پھر سارے ملک کی بیماریوں کو اور پھر ساری دنیا کی بیماریوں کو اور اسی پر بس نہ کریں حفظ ما تقدم کا بھی انتظام کر جائیں اور یہ ہم اسی طرح کر سکتے ہیں کہ اپنی اولاد کو محفوظ کر جائیں اور وہ اس طرح کہ ان کی تعلیم و تربیت کا پورا کابورا پورا انتظام کریں تاکہ ان میں امراض نہ پیدا ہوں اور اس طرح شیطان کو ہمیشہ کے لئے مار دیں۔ یہی حضرت مسیح موعود کا مشن تھا کہ وہ شیطان کو مار دے گا اور جب تک ہم یہ نہ کریں ہمارے چندے ہماری نمازیں ، ہمارے روزے ہمارے حج ہماری زکو تیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں