انوارالعلوم (جلد 7) — Page 19
انوار العلوم - جلدے ۱۹ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء سے کوئی مشارکت نہیں ہوتی اپنی ذات میں یہ خرابی ہوتی (1) بدظنی اس میں دوسرے سے ہے۔ اس کا خطرناک نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نگاہ میں نیکی کی مبتلاء ہو جاتا ہے۔ عظمت مٹ جاتی ہے چنانچہ کہتے ہیں جو کسی کو بدظنی سے جھوٹا کہتا ہے اس کے اندر ضرور جھوٹ کی مرض ہو گی ۔ وجہ یہ کہ جو شخص خود کسی بات کو اہم نہیں سمجھتا وہ دوسرے کے متعلق جھٹ کہہ دیتا ہے کہ یہ بھی اس طرح کرتا ہو گا اور بدظنی کا نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ الزام لگاتے لگاتے گناہوں کی عظمت اس کے دل سے جاتی رہتی ہے اور وہ خودان میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔ غرض بدظنی ایک ذاتی گناہ ہے اس کو مٹانا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے انسان خود گناہ میں یہ وہ جھوٹ ہے جس میں کسی اور پر الزام نہ لگایا جائے ۔ جھوٹ دو قسم کے (۲) جھوٹ ہوتے ہیں ایک یہ کہ کوئی کہے میں فلاں جگہ گیا تھا وہاں میں نے اس قسم کا درخت دیکھا تھا حالانکہ نہ وہ گیا ہو اور نہ اس نے درخت دیکھا ہو۔ اس جھوٹ کا اثر دو سروں پر نہیں پڑتا یہ اس کا ذاتی گناہ ہے کیونکہ جو اس کا ارتکاب کرتا ہے وہ حقائق اشیاء سے بے بہرہ ہو جاتا ہے اور اس کے نفس سے اچھے اور برے کا امتیاز اٹھ جاتا ہے اس لئے میں احباب کو تاکید کروں گا کہ ذاتی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اس کو بھی ترک کردیں۔ بہت لوگ اس میں مبتلاء پائے جاتے ہیں بہت لوگ بڑے بڑے معاملات میں جھوٹ نہیں بولتے مگر ایسی باتوں میں جھوٹ کی پرواہ نہیں کرتے اور کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ چھوٹا جھوٹ ہے۔ جھوٹ جھوٹ ہی ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اور خطر ناک گناہ ہے۔ چھوٹا جھوٹ بھی ایسا ہی ہے جیسے بڑا جھوٹ اور سارے جرم جرم ہی ہیں بلکہ مثل تو یوں مشہور ہے کہ کسی نے پوچھا تھا اونٹ کی کیا قیمت ہے اور اس کے بچہ کی کیا ؟ جواب ملا - اونٹ کی چالیس اور بچہ کی بیالیس کیونکہ وہ اونٹ بھی ہے اور اونٹ کا بچہ بھی۔ تو چھوٹا جھوٹ اس لئے خطرناک ہوتا ہے کہ انسان اس کے ارتکاب پر جرات کر لیتا ہے۔ پس تم لوگ آئندہ کے لئے عہد کرو کہ تمہاری زبان پر سوائے راستی کے کچھ نہ آئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں یونہی زبان سے یہ بات نکل گئی مگر میں یہ کہتا ہوں خواہ کوئی تمہاری جان بھی نکال دے تمہاری زبان سے ایک لفظ بھی جبراً نہیں نکلوا سکتا پھر جھوٹ کیوں کہو ۔ اگر کوئی بات تم نہیں بتانا چاہتے تو صاف کہدو کہ نہیں بتاتے اور سچائی اور راستی کو اپنا شعار بنالو اور عہد کرلو کہ آج سے کوئی ایسا لفظ تمہاری زبان پر جاری نہ ہو جو حقیقت کے خلاف ہو ۔