انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 342

انوارا الحلوم جلدی ٣٢٢ دعوة الامير کرنے والا تھا وہ اس امر کو ہر گز پسند نہیں کرتا تھا کہ آپ تو فوت ہو کر زمین کے نیچے مدفون ہوں اور حضرت مسیح علیہ السلام زندہ رہ کر آسمان پر جا بیٹھیں ۔ اگر کوئی شخص زندہ رہنے اور آسمان پر جا بیٹھنے کا مستحق تھا تو وہ ہمارے نبی کریم اے تھے اور اگر وہ فوت ہو گئے ہیں تو کل نبی فوت ہو چکے ہیں ۔ ہم محمد رسول اللہ ا کی اعلیٰ شان اور آپ کے ارفع درجہ کو دیکھتے اور مقام کو پہچانتے ہوئے کس طرح تسلیم کر لیں کہ جب ہجرت کے دن جبل ثور کی بلند چٹانوں پر حضرت ابو بکر کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر آپ کو چڑھنا پڑا تو خداتعالی نے کوئی فرشتہ آپ کیلئے نہ اتارا لیکن جب مسیح علیہ السلام کو یہودی پکڑنے آئے ؟ آئے تو اس نے فوراً آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور چوتھے آسمان پر آپ کو جگہ دی اسی طرح ہم کیونکر مان لیں کہ جب غزوہ احد میں آنحضرت کو دشمنوں نے صرف چند احباب میں گھرا پایا تو اس وقت تو اللہ تعالی نے یہ نہ کیا کہ آپ کو کچھ دیر کیلئے آسمان پر اٹھا لیتا اور کسی دشمن کی شکل آپ کی سی بدل کر اس کے دانت تڑوا دیتا بلکہ اس نے اجازت دی کہ دشمن آپ پر حملہ آور ہو آپ کالمیت زمین پر بے ہوش ہو کر جاپڑیں اور دشمن نے خوشی کے نعرے لگائے کہ ہم نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر دیا ہے لیکن مسیح علیہ السلام کے متعلق اسے یہ بات پسند نہ آئی کہ ان کو کوئی تکلیف ہو اور جونہی کہ یہود نے آپ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اس نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور آپ کی جگہ آپ کے کسی دشمن کو آپ کی شکل میں بدل کر صلیب پر لٹکوا دیا ۔ ہم حیران ہیں کہ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ ایک طرف تو آنحضرت ا سے محبت کا دعوئی کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کی عزت پر حملہ کرتے ہیں اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ جو لوگ آپ کی محبت سے مجبور ہو کر آپ پر کسی کو فضلیت دینے سے انکار کر دیتے ہیں ان کو دکھ دیتے ہیں، ان کے اس فعل کو کفر قرار دیتے ہیں کیا کفر محمد رسول اللہ ا کی عزت کے قائم کرنے کا نام ہے کیا بے دینی آپ کے حقیقی درجے کے اقرار کا نام ہے کیا ارتداد آپ سے محبت کو کہتے ہیں ؟ اگر یہی کفر ہے ، اگر یہی بے دینی ہے ، اگر یہی ارتداد ہے تو خدا کی قسم ہم اس کفر کو لوگوں کے ایمان سے اور اس بے دینی کو لوگوں کی دینداری سے اور اس ارتداد کو لوگوں کے ثبات سے ہزار درجہ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور اپنے آقا اور سردار حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہمنوا ہو کر بلا خوف ملامت اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ