انوارالعلوم (جلد 7) — Page 343
انوار العلوم جلدے ۳۴۳ دعوة الامير , ۱۴ بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم سب کو آخر ایک دن مرنا ہے اور اللہ تعالی کے حضور میں پیش ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ معاملہ پڑتا ہے پھر ہم لوگوں سے کیوں ڈریں؟ لوگ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں ہم اللہ تعالٰی ہی سے ڈرتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کے بعد سب سے زیادہ محبت اور ادب ہمارے دل میں آنحضرت ا کا ہے۔ اگر دنیا کی ساری عزتیں اور دنیا کے سارے تعلقات اور دنیا کے تمام آرام آپ کیلئے ہمیں چھوڑنے پڑیں تو یہ ہمارے لئے آسان ہے مگر آپ کی ذات کی ہتک ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔ ہم دوسرے نبیوں کی ہتک نہیں کرتے مگر آنحضرت کی قوت قدسیہ اور آپ کے علم اور آپ کے عرفان اور آپ کے تعلق باللہ کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کبھی بھی نہیں مان سکتے کہ آپ کی نسبت کسی اور نبی سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیار تھا اگر ہم ایسا کریں تو ہم سے زیادہ قابل سزا اور کوئی نہیں ہو گا ہم آنکھیں رکھتے ہوئے اس بات کو کس طرح باور کر لیں کہ عرب کے لوگ جب محمد رسول اللہ ا سے کہیں کہ اَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ تُؤْمِنَ لِرُ فِيكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتُبَا تَقْرَؤُهُ ١٥ یعنی ہم تجھے نہیں مانیں گے جب تک کہ تو آسمان پر نہ چڑھ جائے اور ہم تیرے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ تو کوئی کتاب بھی آسمان پر سے نہ لائے جسے ہم پڑھیں تو اللہ تعالی آپ سے فرمائے کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً ؟۔ ان سے کہہ دے کہ میرا رب ہر کہ ہر کمزوری سے پاک ہے میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں لیکن حضرت مسیح کو وہ آسمان پر اٹھا کر لے جائے ۔ جب محمد رسول ا کا سوال آئے تو انسانیت کو آسمان پر چڑھنے کے مخالف بتایا جائے لیکن جب مسیح کا سوال آئے تو بلا ضرورت ان کو آسمان پر لے جایا جائے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ مسیح علیہ السلام آدمی نہیں تھے بلکہ خدا تھے ۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلک۔ یا پھر یہ نتیجہ نکلے گا کہ آپ رسول کریم ال سے افضل تھے اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارے تھے مگر جب کہ یہ بات أَظْهَرُ مِنَ الشَّمْسِ ہے کہ آنحضرت ا سب رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تو پھر کس طرح عقل باور کر سکتی ہے کہ آپ تو آسمان پر نہ جائیں بلکہ اسی زمین پر فوت ہوں اور زمین کے نیچے دفن ہوں لیکن مسیح علیہ السلام آسمان پر چلے جائیں اور ہزاروں سال تک زندہ رہیں۔ پھر یہ سوال صرف غیرت ہی کا نہیں بلکہ رسول کریم ان کی صداقت کا بھی سوال ہے ا سوال ہے آپ فرماتے ہیں کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِبْسَی حَيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِي - اگر موسى و