انوارالعلوم (جلد 7) — Page 341
انوار العلوم جلدے ۳۴۱ دعوة الامير کلام کو تمام کلاموں سے افصح جانتے ہیں اور ہر غلطی سے مبرا سمجھتے ہیں ہم مخلوق ہو کر اپنے خالق کی غلطیاں کیونکر نکالیں اور جاہل ہو کر علیم کو سبق کیونکر دیں۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم یہ کہا کہو کہ خدا کے کلام میں غلطی ہو گئی مگر یہ نہ کہو کہ خود ہم سے خدا کا کلام سمجھنے میں غلطی ہو گئی ، مگر ہم اس نصیحت کو کس طرح تسلیم کر لیں کہ اس میں ہمیں صریح ہلاکت نظر آتی ہے ۔ آنکھیں ہوتے ہوئے ہم گڑھے میں کس طرح گر جائیں اور ہاتھ ہوتے ہوئے ہم زہر کے پیالہ کو اپنے منہ سے کیوں نہ ہٹائیں۔ خدا تعالی کے بعد ہمیں خاتم الانبیاء محمد مصطفے ا سے محبت ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ خدا تعالٰی نے ان کو سب انبیاء سے بڑا درجہ دیا ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے آپ ہی سے ملا ہے اور جو کچھ آپ نے ہمارے لئے کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی اور کسی انسان نے خواہ نبی ہو یا غیر نبی ہمارے لئے نہیں کیا۔ ہم آپ سے زیادہ کسی اور انسان کو عزت نہیں دے سکتے ۔ ہمارے لئے یہ بات سمجھنی بالکل نا ممکن ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو زندہ آسمان پر چڑھا دیں اور محمد رسول ال کو زیر زمین مدفون سمجھیں اور پھر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھیں کہ آپ مسیح سے افضل بھی ہیں کس طرح ممکن ہے کہ وہ جسے اللہ تعالیٰ نے ذرا سا خطرہ دیکھ کر آسمان پر اٹھا لیا ادنی درجہ کا ہو اور وہ جس کا دور دور تک دشمنوں نے تعاقب کیا مگر خدا تعالٰی نے اسے ستاروں تک بھی نہ اٹھایا اعلیٰ ہو۔ اگر فی الواقع مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور ہمارے سردار و آقاز مین میں مدفون ہیں تو ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی موت نہیں اور ہم مسیحیوں کو منہ بھی نہیں دکھا سکتے ، مگر نہیں یہ بات نہیں خدا تعالٰی اپنے پاک رسول سے یہ سلوک نہیں کر سکتا۔ وہ احکم الحاکمین ہے یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ آنحضرت ا کو سید ولد آدم بھی بناتا اور پھر مسیح علیہ السلام سے زیادہ محبت کرتا اور ان کی تکالیف کا زیادہ خیال رکھتا۔ جب اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے قیام کیلئے ایک دنیا کو زیر و زبر کر دیا اور جس نے آپ کی ذرا بھی ہتک کرنی چاہی اسے ذلیل کر دیا تو کیا یہ ہو سکتا تھا کہ خود اپنے ہاتھ سے وہ آپ کی شان کو گراتا اور دشمن کو اعتراض کا موقع دیتا۔ میں تو جب یہ خیال بھی کرتا ہوں کہ محمد رسول الله ا تو زیر زمین مدفون ہیں اور حضرت مسیح ناصری آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ؟ ے ہو جاتے ہیں اور میں میری جان گھٹنے لگتی ہے اور اسی وقت میرا دل پکار اٹھتا ہے کہ خدا تعالی ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ محمد رسول اللہ ا سے سب سے زیادہ محبت