انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 273

انوار العلوم جلدے ۲۷۳ تحریک شدهی مکانا گئی۔ اتحادیوں نے انہیں کہا کہ اتنا غصہ نہ دکھاؤ ہم تصفیہ کر دیں گے لیکن انہوں نے کہا اس میں چونکہ ہماری ہتک کی گئی ہے اس لئے جب تک یونان والے ہماری شرائط نہ مانیں گے ہم نہیں چھوڑیں گے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اٹلی والوں نے حد سے زیادہ تیزی دکھائی ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ ان کی زندگی کی علامت ہے اور انہوں نے یونان سے حسب منشاء شرطیں منوالی ہیں۔ اسلامی سلطنت کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے۔ معتصم باللہ کے زمانہ کا ذکر ہے ایک مسلمان عورت کو ایک عیسائی بادشاہ وکھ دے رہا تھا اور فنرا کہہ رہا تھا کہ دیکھو معتصم باللہ اہلتی گھوڑے پر سوار تمہاری مدد کو آرہا ہے۔ یہ بات ایک مسلمان نے سنی اور جا کر بادشاہ کو بتائی ۔ اس وقت اگرچہ بادشاہت کو تنزل تھا مگر بادشاہ نے کہا کہ میں ابھی اس عورت کو بچانے کے لئے جاؤں گا۔ آدمیوں کو چلنے کا حکم دے دیا اور کہا سب ابلق گھوڑوں پر سوار ہوں۔ اس کے اپنے گھوڑے کا رنگ ابلق تھا اس کی طرف عیسائی نے اشارہ کیا تھا۔ بادشاہ نے کہا ابلق گھوڑوں پر ہی سوار ہو کر وہاں جائیں گے۔ پس لشکر گیا اور جا کر اس عورت کو چھوڑا لایا ۔ دیکھو ایک عورت کے لئے اور وہ بھی اس زمانہ میں جب کہ مسلمان عیش و عشرت میں پڑے ہوئے اور تنزل میں گرے ہوئے تھے اس قدر غیرت دکھلائی تو کیا وہ قوم جو ایک نبی کی امت کہلاتی اور دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑی ہوتی ہے وہ ایک قوم کے لئے غیرت نہ دکھلائے گی ؟ ایک تازہ واقعہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ آئی ہے کہ ایک جگہ آریوں نے شدھی کا دن مقرر کیا۔ اور وہاں گھی وغیرہ سامان پہنچا دیا ۔ جن لوگوں نے مرتد ہونا تھا ان کے گھرانہ کی ایک عورت اس بات پر مصر تھی کہ میں مسلمان ہی رہوں گی۔ جب سامان آگیا تو مقررہ دن گھر والے گھبرائے کہ اگر یہ عورت مرتد نہ ہوئی تو ہماری بدنامی ہوگی ۔ آگے کوئی کہتا ہے کہ وہ کچھ کھا کر مرگئی اور کوئی کہتا ہے کہ اسے ان لوگوں نے مار کر مار دیا اگر وہ کچھ کھا کر مری ہے تو گو اسلام میں خود کشی گناہ ہے مگر اس کے لئے جو اس بات کو جانتا ہو وہ بیچاری کہاں جانتی ہو گی۔ پس اگر اس نے زہر بھی کھایا ہے تو بھی اس نے اسلام کے لئے جان دی۔ اور اگر اسے مار مار کر مار دیا گیا تو بھی ان بہت سے مسلمانوں سے بہتر ہی رہی جو گھر میں بیٹھے رہے اور فتنہ ارتداد کے مقابلہ کے لئے نہ نکلے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقہ ملکانہ میں ایسی روحیں ہیں جو اسلام کے لئے جان دے رہی ہیں اور ان کا بچانا ہمارا فرض ہے اگر ایسی روح ایک بھی ہو ۔ مگر اب تو کئی ثابت ہو رہی ہیں تو ہمارا