انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 272

انوار العلوم جلدے ۲۷۲ تحریک شدھی ملکانا امت کا رعب ہے اور سوائے آپ کی ذات کے اور کونسا وجود ہے جو مرگیا ہو اور اس کا رعب قائم ہو سوائے رسول کریم ال کے اور کسی کا نہیں ۔ آج بھی آپ کی تعلیم اور آپ کے مذہب سے دنیا ڈر رہی ہے۔ یورپ اب بھی یہی کہتا ہے کہ چین اسلام ازم یعنی اتحاد اسلام سے ڈرنا چاہئے ۔ تو اسلام کا رعب اب بھی قائم ہے اور یہ رسول کریم لا کا معجزہ ہے جو اسلام کی تائید میں دیا گیا ہے ۔ لیکن اب اگر قوموں کی قومیں اسلام سے نکلنی شروع ہو جائیں تو یہ مفہوم ہو گا کہ مسلمانوں کی بداعمالی کی وجہ سے رعب مٹادیا گیا۔ پس ہماری طرف آواز ملکانوں کی نہیں آرہی بلکہ اسلام کی آواز آرہی ہے اور اسلام ہمیں بلا رہا ہے کہ آؤ آکر میری حفاظت کرو۔ ہم نے یہ کام اس لئے نہیں شروع کیا کہ ملکا نا قوم کو بچاتا ہے بلکہ اس لئے شروع کیا ہے کہ اسلام کو محفوظ کرنا ہے اس لئے کوئی یہ نہ کہے کہ ملکا نے حریص اور لالچی ہیں اس لئے ان کی اصلاح مشکل ہے۔ خواہ یہ لوگ کتنے ہی حریص اور لالچی ہوں مگر ان بدوؤں سے تو زیادہ نہیں ہو سکتے جن کی اصلاح کے لئے رسول کریم نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا اور جنہوں نے ایک دفعہ جب رسول کریم جنگ سے واپس آرہے تھے آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر کھینچا اور کہا ہمیں مال کیوں کیوں نہیں دیتے۔ ے مگر میں نے کسی مبلغ سے یہ نہیں سنا کہ کسی ملکانہ نے اس کے گلے میں رسی ڈال کر اس لئے کھینچا ہو کہ روپیہ دو۔ پس اگر ان بدوؤں کے لئے رسول کریم اپنی جان کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں، مسلمانوں کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں، مسلمانوں کے اموال کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں تو ان ملکانوں کے لئے کیوں ہم اپنی جانوں اور مالوں کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتے ہیں۔ بدو خواہ کیسے ہی لالچی تھے مگر چونکہ اسلام کے لئے اجتماع اور مرکز بنانا ضرور تھا اس لئے رسول کریم ال کہتے چاہے کوئی اسلام کی ایک بات ہی سمجھے ، مسلمان سمجھا جائے آگے وہ خود سب کچھ سیکھ جائے گا نہ یہ کہ چونکہ وہ لوگ لالچی اور بہت گرے ہوئے تھے اس لئے آپ نے ان کی اصلاح کے لئے کوشش ہی نہ فرمائی۔ آپ نے کوشش کی اور محض لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ سمجھنے پر ان کو داخل اسلام کر لیا۔ پس جو کچھ رسول کریم ال نے بدوؤں کے لئے قربان کیا وہ ہم نہیں کر رہے بلکہ اس سے بہت ہی کم کر رہے ہیں پھر اس سے بھی کوتاہی کرنا کس قدر افسوس ناک امر ہے۔ اس بات کو خوب اچھی طرح یاد رکھو کہ یہ کسی قوم کا سوال نہیں نہ کسی قوم کی آواز ہے بلکہ اسلام کی آواز ہے اور اس کو سن کر کس طرح کوئی مومن خاموش رہ سکتا ہے دیکھو ابھی یونان میں اٹلی والوں کے کچھ آدمی مارے گئے ہیں اس وجہ سے ساری اٹلی یونان کے خلاف کھڑی ہو