انوارالعلوم (جلد 7) — Page 9
انوار العلوم - جلدے 9 خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء نے سوال کو بدل کر کہا۔ کیا ختم النبیین " کوئی لفظ قرآن میں ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا کیا قرآن کریم میں آنحضرت ا کے متعلق کوئی ایسی آیت ہے جس کے معنی غیر احمدی یہ کرتے ہیں کہ آنحضرت ا کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور وہ کیا ہے ؟ اس کے متعلق میرا جواب یہ تھا کہ یہ غیر احمدیوں سے پوچھئے کہ وہ کس آیت سے یہ مطلب نکالتے ہیں۔ آخر وکیل نے کہا اچھا آپ ہی آیا بتا دیں کہ وہ کونسی آیت ہے جس کے معنی غیر احمدی آخری نبی کرتے ہیں؟ میں نے کہا ولكن رَسُولَ اللهِ وَ خاتم النبین کی آیت ہے اس نے کہا کیا اس میں یہ معنی پائے جاتے ہیں کہ رسول کریم آخری نبی ہیں ؟ میں نے کہا نہیں ۔ بعض لوگ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کرتے ہیں مگر رسول کریم ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) اس کا انکار کرتی ہیں ۔۔۔ ال وکیل کا ان سوالات سے یہ ثابت کرنے کا منشاء تھا کہ رسول کریم ال کے بعد کوئی نبی آنے کا عقیدہ نیا نکلا ہے پہلے نہیں تھا اور نیا عقیدہ کفر ہے اس لئے نکاح ٹوٹ گیا اور میں نے یہ بتانا تھا کہ اصل عقیدہ یہی تھانہی کے نہ آنے کا عقیدہ بعد میں بنا۔ جب وکیل نے پوچھا کہ کیا خاتم النبین کے معنی آخری نبی نہیں ہیں ؟ تو میں نے کہا لغت میں اس کے معنی آخری نبی کے نہیں۔ (1) یہ عبارت جب مولوی آخری نبی کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کا اعتراض محمد علی صاحب کو پہنچی تو انہوں نے جھٹ ایک مضمون لکھ کر اخبارات میں شائع کرایا ۔ کیونکہ ان کو تو ہر وقت یہی شوق لگا رہتا ہے کہ کوئی بات ہو جس پر اعتراض کریں ۔ رات دن اسی فکر میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی موقع اعتراض کرنے کا ہاتھ آئے خواہ حقیقتاً اعتراض ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو ۔ ان کی تو وہی حالت ہے جو حضرت صاحب غیر احمدی مولویوں کی فرمایا کرتے تھے کہ مولوی ڈاک کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کب کوئی بات معلوم ہو اور اس پر اعتراض کریں حتی کہ پروف کی چوری کرنے سے بھی دریغ نہ کیا گیا تا کہ کتاب کے شائع ہونے سے پہلے ہی اعتراض کر دیں۔ مولوی محمد علی صاحب کے متعلق پروف کی چوری تو معلوم نہیں ہوئی مگر اتنا معلوم ہے کہ یہاں سے بڑے شوق سے رپورٹ منگواتے رہتے ہیں۔ ہاں دفتر سے ایک رسید بک چوری کی گئی تھی جس کا تعلق مولوی صاحب سے تھا۔ میں نے جو بیان دیا اس کے لکھنے میں مجسٹریٹ صاحب سے غلطی ہو گئی۔ انہوں نے میرا بیان نہ مجھے دکھایا اور نہ سنایا۔ انہوں نے یہ لکھ دیا کہ لغت میں یہ معنی نہیں لکھے ۔ جس کا مطلب یہ نکلتا