انوارالعلوم (جلد 7) — Page 226
انوار العلوم جلدے ۲۲۶ تحریک شدھی ملکانا کر دیا گیا۔ خدا نے کلام کیا پہاڑ پر زلزلہ آیا وہ ڈر گئے حالانکہ نعمتیں مشکلات ہی کے بعد ملا کرتی ہیں ۔ ایک بیر کانٹے کے بغیر نہیں ملتا گلاب کا پھول ملتا ہے مگر ہاتھ میں جب کانٹا چھ چکے ۔ جب یہ ادنی چیزیں بھی مشکلات کے بعد ملتی ہیں تو خدا کس طرح آرام سے مل سکتا ہے ۔ بس جو خدا سے ملنا چاہتا ہے اس کو کانٹوں کی نہیں تلواروں کے زخموں کی برداشت پیدا کرنی چاہئے ۔ جو خدا کو چاہتا ہے وہ تلوار کے گھاؤ کھانے کے لئے تیار ہو وہ جان دینے کے لئے تیار ہو ۔ فی الحال تین مہینہ کے لئے زندگی وقف کرنے کا مطالبہ ہے ممکن ہے کہ ان سے اس سے زیادہ وقت کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے ۔ وہ جنہوں نے پچاس ہزار دینا ہے ممکن ہے کہ وقت پر ان کو وہ سب کچھ دینا پڑے جو ان کے پاس ہو۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ہم کیا دیں گے اپنا کچھ بھی نہیں ہو گا جو ہو گا خدا کا ہو گا۔ ہم بیعت کے وقت اقرار کر چکے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے اس لئے اگر ضرورت ہوئی تو سب کچھ دیں گے اور اب امتحان کا وقت ہے ہمارے سامنے صرف ملکانوں کا سوال نہیں سارے ہندوستان کو مسلمان بنا لینے کا سوال ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا الہام ہے۔ ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے اسے - گیتا میں آپ کا ذکر اسی لئے تھا کہ آپ کے ذریعہ ہندوؤں میں تبلیغ اسلام خدا نے تین ہزار سال پہلے ہمارا فرض ٹھرا دیا ہے کہ ہم ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کریں۔ ہمیں اس وقت تک ہندوستان میں کام کرنا ہے جب تک تمام ہندوستان میں متحدہ طور پر یہ آواز بلند نہ ہو : ”غلام احمد کی بے ۳۲ اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک ہندو اقوام بحیثیت جماعت کے اسلام میں داخل نہ ہوں۔ اگر ہم ساری دنیا کو بھی مسلمان بنا لیتے اور اس طرف توجہ نہ کرتے تو ہمارا فرض ادا نہ ہوتا۔ پس وقت ہے کہ جو لوگ جس قدر قربانی کر سکتے ہیں کریں اور تیار رہیں کہ ابھی ان کو اور بھی خدمت اور قربانی کے مواقع ملیں گے۔ اسلام پر یہ نازک وقت ہے یہ ہنسی کا وقت نہیں جس طرح ماں مر جاتی ہے اور نادان بچہ اس کے منہ پر طمانچہ مارتا ہے کہ ماں اٹھ تو کیوں مخول کرتی ہے اگر اس کو معلوم ہو کہ ماں مخول نہیں کرتی بلکہ مرگئی ہے تو اس کا کیا حال ہو گا تم خود سمجھ لو اسی طرح اسلام پر دشمن کا جو حملہ ہے اگر اس کو پورے طور پر سمجھ لیا جائے تو کوئی قربانی اس کے انسداد کے لئے مسلمان اٹھا نہ رکھیں۔ پس وقت ہے کہ کام کیا جائے میں جانتا ہوں کہ ہمارے لوگوں میں جتنا اخلاص ہے اتنا علم نہیں۔ جب تک دوسروں کو اس خطرہ کی اہمیت کا علم نہ دیا جائے وہ قربانی کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ پس جو یہاں موجود ہیں ان کا فرض ہے کہ اپنے اپنے مقامات پر جائیں اور جماعتوں کو اس فتنہ کی اہمیت سے آگاہ کریں اور