انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 225

انوار العلوم جلدے ۲۲۵ تحریک شدھی ملکانا سے روح کا نپتی ہے اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ عام مسلمان اس فرض سے غافل ہیں۔ یعنی وہ نہیں جانتے کہ وہ اس وقت کیا کریں کس طرح کریں اور ان کا فرض کیا ہے۔ میں نے تاریخ میں ایک واقعہ پڑھا تھا۔ جس وقت وہ مجھے یاد آتا ہے تو جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک دفعہ عیسائیوں نے مسلمانوں کی سرحد پر چھاپہ مارا اور ایک عورت کے رشتہ واروں کو پکڑ کر لے گئے اس وقت اس عورت نے مسلمان بادشاہ کا نام لیا اور کہا کہ وہ کہاں ہے اگر مسلمان اس طرح اس ملک میں غیر محفوظ ہیں تو وہ کیا کرتا ہے ۔ ایک مسلمان نے یہ پیغام سنا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا دیا ۔ گو اس وقت مسلمانوں کی سلطنت کمزور ہو رہی تھی مگر ان میں ایمان باقی تھا۔ بادشاہ نے جونہی اس عورت کا پیغام سنا اس نے تلوار اٹھالی اور لبیک لبیک کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور وہ پہنچا اور اس عورت کے رشتہ داروں کو چھڑا لایا۔ جب ایک عورت کے لئے جو کلمہ پڑھتی تھی ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے جسم کو ہلاکت سے بچائے تو جب ہم یہ دیکھیں کہ محمد رسول اللہ کو ماننے والوں کی روحیں ہلاکت کی طرف لے جائی جا رہی ہیں اس وقت ہماری ذمہ داری کتنی بڑھ جاتی ہے۔ کیا ہم اس لئے پیچھے رہیں گے کہ وہ غیر احمدی ہیں۔ کیا ہم اس لئے ان کو ارتداد سے بچانے نہ جائیں گے کہ ان کے مولوی ہمیں کافر اور ہمارے آقا مسیح موعود کو دجال کہتے اور ہمیں ہر ایک قسم کا نقصان جو وہ پہنچا سکتے ہوں، پہنچانا عین ثواب خیال کرتے ہیں، ہرگز نہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اشاعت اسلام کے لئے کھڑے ہوں اور اس راہ میں جو بھی قربانی کرنی پڑے وہ کریں۔ نہ صرف ان مسلمانوں کو ارتداد سے بچائیں بلکہ ان کو بھی اسلام میں لائیں جو ان کو اسلام سے چھین کر لے جانے کے درپے ہیں۔ یہ خدا تعالی کی طرف سے ایک ضرب ہے۔ اس سے مسلمانوں کو بیدار ہونا چاہئے۔ ہم کو چاہئے کہ ملکانوں کو ارتداد سے بچائیں اور ہندوؤں کو اسلام میں داخل کریں اب ہماری جماعت کے اخلاص دکھانے کا موقع ہے۔ اب تک ہمیں جان قربان کرنے کے موقعے نہیں ملے تھے مگر اب یہ دروازے کھل گئے ہیں۔ ان پر افسوس ہو گا جو داخل نہ ہوں۔ خدا کی طرف سے ایک دفعہ دروازے کھلا کرتے ہیں جو انکار کر دیں وہ محروم ہو جایا کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی قوم کے لئے اللہ تعالیٰ نے الہام کا دروازہ کھولا مگر وہ لوگ ابتلاؤں سے ڈر گئے اس لئے ان کو الہام سے محروم