انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 219

انوار العلوم جلد ۲۱۹ تحریک شد هی مکانا اس کام کے لئے تیار نہ ہو جائیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کے مطالبہ سے زیادہ آدمی اس وقت وہاں جانے کو تیار ہوں گے وقت اتنا نہیں ہے کہ ہم باہر والوں سے خطاب کریں۔ ابھی تک باہر سے درخواستیں آئی بھی کم ہیں۔ کیونکہ ابھی تک باہر میرے اعلان کی اشاعت کم ہوئی ہے۔ ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایک نبی کا زمانہ دیا ۔ بڑے بڑے بزرگ ہوئے ہیں مگر ایک احمدی کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے ایک نبی کا چہرہ دیکھا ہے۔ حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی اپنے تقوی وطہارت سے ایک احمدی سے افضل ہیں مگر ایک پرانے احمدی کو جو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے ایک نبی کو دیکھا ہے یہ ان پر اس کو فضیلت حاصل ہے۔ یہ ایک مستقل فضیلت ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کے بعد بزرگوں سے افضل ہیں۔ پس مجھے ایسے ہیں آدمیوں کی ضرورت ہے خواہ انہوں نے ممبران وفد ثانی کے اسماء اب تک نا کھایا ہو خواہ نہ لکھوایا وہ اب اپنے نام پیش نام کریں جو آج عصر کی نماز کے بعد قادیان سے روانہ ہو جائیں۔ وقت جو گزر جائے پھر نہیں آتا ممکن ہے ایک رات جو غفلت کی ہو وہی زنگ لگا دے۔ پس چاہئے کہ وہ شام سے پہلے پہلے چلے جائیں جو شام سے پہلے جاسکتے ہیں۔ وہ بولیں۔ ہیں:۔ اس پر ۱۱۹ در خواستین پیش ہوئیں۔ مگر جن احباب کو منتخب کیا گیا ان کے اسماء حسب ذیل حضرت مولوی شیخ عبدالرحیم صاحب (سابق سردار جگت سنگھ دفعدار) اتالیق صاحبزادگان حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ قادیان دار الامان امیروند جناب مولوی چوہدری عبد السلام خان صاحب فاضل ہندو لٹریچر کا ٹھ گڑھی ۔ جناب منشی غلام نبی صاحب ایڈیٹر اخبار الفضل (حوالدار ٹریٹوریل فورس) جناب مولوی عبد الصمد صاحب پٹیالوی مصنف نهه کلنک او تار» مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی مهاجر مولوی محمد یا مین صاحب تاجر کتب قادیان مهاجر ے۔ مولوی رحمت علی صاحب بنگالی مهاجر منشی عبد القادر صاحب کپور تھلوی مهاجر