انوارالعلوم (جلد 7) — Page 218
انوار العلوم جلدے ۲۱۸ تحریک شدھی ملکانا کے طور پر اگر وہ دوسرے اوقات میں اور دوسری دینی ضروریات کے وقت قربانی نہیں کرتے تو اس کی زیادہ قدر نہیں ہو گی بلکہ سمجھا جائے گا کہ یہ قربانیاں جو کرتے ہیں رسما کرتے ہیں۔ حقیقی قربانی اسی وقت ہو گی جو ہر دینی ضرورت کے وقت کی جائے اور دل کے شوق اور جوش کے ساتھ کی جائے اور جس کے کرنے کی دل میں ایک لہر پیدا ہو۔ پس ایمان کی تکمیل کے لئے نوافل کی ضرورت ہے آگے نوافل بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ جس میں سے ایک یہ ہیں جس کو فرض کفایہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے نقل ہوتے ہیں ایک لحاظ سے فرض ۔ فرض کفایہ نفل اور فرض سے مرکب ہوتا ہے۔ فرض قوم کے لحاظ سے کہ اگر کوئی نہ کرنے تو ساری قوم گنگار اور نفل ہوتا ہے افراد کے لحاظ سے کہ قوم کا کوئی فرد کرے تو ساری قوم کا کام سمجھا جائے گا۔ مگر فرض کفایہ کی ادائیگی میں کئی لوگ غافل ہو جاتے ہیں ۔ مثلا بغیر نام لئے کے کہا جائے کوئی پانی لاؤ تو ممکن ہے کوئی ایک بھی نہ جائے اور اگر نام لے کر کہا جائے کہ فلاں ستون اٹھا لاؤ تو وہ شخص ستون اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ جب عام بات ہو تو بعض اوقات اس خیال کے ماتحت سب ہی لوگ خاموش بیٹھے رہتے ہیں کہ دوسرا چلا جائے گا۔ یہی وقت ہوتا ہے کہ اس خیال کو چھوڑا جائے اور ہر شخص اپنے آپ کو اس آواز کا مخاطب سمجھے تب قربانی ہوتی ہے اور ہر شخص اس میں حصہ لیتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس تحریک کے ذریعہ تبلیغ اسلام کا سامان کیا ہے اور وقت آگیا ہے کہ اسلام کی اشاعت ہو یہ وقت ہے کہ ہماری جماعت خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھے۔ اب تک ہماری جماعت نے جو قربانی کی تھی وہ مالی قربانی تھی۔ مگر تبلیغ کے لئے اوقات کی قربانی پورے طور پر نہ ہوئی تھی۔ اب اسلام ہر قسم کی قربانیاں چاہتا ہے ۔ اب ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس آواز کا اپنے آپ کو مخاطب سمجھے۔ میرا خیال ہے کہ اب ہمیشہ جماعت پر چندہ مال کی طرح چنده اوقات تبلیغ کے لئے مقرر کیا جائے۔ اور جماعت کا چالیسواں حصہ ہمیشہ تبلیغ میں لگا رہے۔ مگر یہ آئندہ کی بات ہے ت ہے سردست میرے پاس دو و سو درخواستیں مسلمان ملکانہ راجپوتوں کو س دو سوور ارتداد سے بچانے کا کام کرنے کے لئے پہنچ چکی ہیں۔ آج ہمیں وہاں سے تار پہنچا ہے انہوں نے فوراً نہیں آدمی طلب کئے ہیں۔ پچھتیں وہاں پہلے جاچکے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو سو آدمی بھی ہم سے طلب کر سکتے ہیں اور نہیں معلوم اس پہلی سہ ماہی میں وہ کتنی دفعہ اور میں بین آدمیوں کا مطالبہ کریں گے۔ یہ کام نہیں ہو سکتا جبتک سب آدمی