انوارالعلوم (جلد 7) — Page 217
انوار العلوم جلدے ۲۱۷ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہیں اور احمدی خدام دین کی ضرورت فرموده ۲۴- مارچ ۱۹۲۳ء بوقت صبح بمقام مسجد مبارک قادیان) تحریک شد هی ملکانا میں نے اس وقت سب احباب کو خاص طور پر جس ضروری امر کے لئے جمع کیا ہے وہ اس تبلیغ کے متعلق ہے جو مسلمان ملکانا راجپوتوں میں سلسلہ ارتداد کے روکنے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ فتنہ بڑھ رہا ہے میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے احسان اور فضل کے ماتحت یہ فتنہ ہماری تربیت کا موجب ہو گا۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی ایک قسم کی نہیں ہوتی ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے جس طرح عبادتوں میں اللہ تعالی نے ہر قسم کی عبادتوں کا حصہ رکھا ہے۔ اوقات کی قربانی ہوتی ہے جسم کی قربانی ہوتی ہے یہ نماز کی عبادت ہے۔ روزے کی عبادت میں کھانے پینے مرد و عورت کے تعلقات کی قربانی ہوتی ہے حج میں مال و دولت آرام اور وطن کی۔ پھر قربانیاں کئی قسم کی ہیں۔ بعض فرائض کے ذریعہ کی جاتی ہیں بعض نوافل کے ذریعہ ۔ فرائض حکم کے ماتحت اور نوافل مرضی کے ماتحت بجالائے جاتے ہیں۔ یہ ایمان کو سنبھالنے والی چیز ہے ۔ جب تک نوافل کی قربانی نہ ادا کی جائے اس وقت تک ایمان کی تکمیل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں مرضی کا دخل ہے۔ اور جب تک نوافل ادا نہ ہوں مرضی کا پتہ نہیں لگ سکتا کیونکہ فرائض کی ادائیگی عادت کے ماتحت بھی ہو سکتی ہے۔ لوگ پنجوقتہ نماز پڑھتے ہیں اگر وہ دوسرے اوقات میں نماز نہیں پڑھتے تو ان کے شوق کا اظہار نہیں ہو سکتا بلکہ اس سے محض رسم و عادت کا گمان ہو گا۔ اگر کوئی شخص محض ایک مہینہ کے روزے رکھتا ہے اور باقی سال میں اور روزے کبھی نہیں رکھتا تو وہ بھی قربانی اور عبادت کا شائق نہیں معلوم ہوتا۔ اگر صرف زکوۃ دیتا ہے ارصدقہ نہیں کرتا تو اس کو محض عادت سمجھا جائے گا۔ اگر ایک شخص توفیق ہونے اور صحت اور امن راہ کے ہوتے ہوئے صرف ایک ہی حج کرتا ہے اور پھر اس کے دل میں شوق نہیں ہوتا کہ وہ حج ادا کرے تو اس کا حج عادت یا اثرات کا نتیجہ خیال کیا جائے گا۔ اسی طرح مالی قربانی بھی ہے۔ لوگ قربانی تو کرتے ہیں مگر فرائض