انوارالعلوم (جلد 7) — Page 207
انوار العلوم جلدے ۲۰۷ تحریک شد می ملکانا چونکہ ان لوگوں کو اسلام سے ظاہری تعلق ہو گا اس لیئے اس تعلق کی وجہ سے ان کو دکھ اور تکالیف پہنچیں گی اور ان سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہو گا۔ ان کے اندر حقیقی اسلام نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ بچائے اور ظاہر میں چونکہ مسلمان کہلاتے ہوں گے اس لئے دوسرے لوگ ان کو تکالیف اور دکھ پنچائیں گے ثُمَّ اتَّبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلاً اس پھر وہ آگے چلے گا اور وہاں ایک تیسری قوم ہوگی۔ یہ وہ قوم ہے جس کا آج کل جھگڑا پڑا ہوا ہے وہ وہاں پہنچے گا جہاں غیر مذاہب اور اسلام کی سرحد ملتی ہے وہاں ایسی قوم ہوگی جو بالکل جاہل ہو گی اور ایسی جاہل ہو گی کہ نہ اسلام کو سمجھتی ہوگی نہ کسی اور مذہب کو ۔ گویا وہ کچھ ہندوؤں کے قریب ہو گی کچھ مسلمانوں کے ۔ چنانچہ وہ لوگ ایسے ہی ہیں ۔ ختنہ کراتے ہیں مگر گائے کا گوشت نہیں کھاتے ۔ نکاح پڑھواتے ہیں مگر بت بھی گھروں میں رکھے ہوتے ہیں۔ لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلاً ۲۲۔ جو ان کے متعلق آیا ہے بالکل اس کا ترجمہ وہ فقرہ ہے جو مولوی محفوظ الحق صاحب نے ان لوگوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بات تک نہیں سمجھ سکتے ۔ قَالُوا يُذَ الْقُرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَا جُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرَجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا ٢٣ ان لوگوں میں جو تعلیم یافتہ ہوں گے اور ہیں جو شور مچا رہے ہیں کہ ان لوگوں کو بچاؤ وہ شور مچائیں گے ۔ یا یہ بھی اس کا مطلب ہے کہ پہلی قوم کے لوگ کہیں گے کہ اے ذوالقرنین یا اس کی جماعت یا جوج و ماجوج ان لوگوں کو کھینچے لئے جا رہے ہیں ان کو بچاؤ ۔ ہندو بھی یا جوج و ماجوج میں شامل ہیں۔ لغو وہ لوگ یعنی مسلمان حضرت مسیح موعود کی جماعت کو کہیں گے کہ یاجوج و ماجوج فساد مچار ہے ہیں ان سے ان لوگوں کو بچاؤ خرچ ہم دیتے ہیں ہندوؤں اور ان کے درمیان روک کھڑی کر دو۔ چنانچہ غیر احمدی لکھ رہے ہیں کہ احمدی کیوں ان لوگوں کو نہیں بچاتے ۔ قَالَ مَا مَكَّنِی فِيْهِ رَبِّي خَيْرٌ فَاعِينُونِي بِقُوَّةِ اجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا ۲۴۔ وہ کہے گا تمہاری مدد پر بھروسہ کرنا کفو ہے ۔ خدا تعالٰی نے مجھے نکتہ سمجھایا ہے اور وہی میری مدد و نصرت کرے گا اور وہی ان لوگوں کو بچا سکتا ہے اتُونِي زُبُرَ الْحَدِيدِ ٢٥ ہاں تم ظاہری شوکت سے مدد دے سکتے ہو ۔ اس سے اگر مدد دو تو تمہارے لئے موجب ثواب ہو گی لیکن اصل فتح خدا تعالی ہی کی نصرت اور جذب دعا سے ہو گی۔ میرے پاس تم اپنے لوہے کے ٹکڑے لاؤ یعنی مجھے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو قلموں کی چونکہ یہ ہولڈروں سے لکھ سکتا ہے جو لوہے کے ہوتے ہیں اس لئے لوہے کے ٹکڑے سے یہی