انوارالعلوم (جلد 7) — Page 208
انوار العلوم جلدے ۲۰۸ تحریک شد می ملکانا مراد ہیں یہ مجھے دید و یعنی غیر مذاہب کے مقابلہ میں مجھے لکھنے دو۔ مجھے خدا نے اسلام کی حفاظت کا طریق سمجھایا ہے میں اس سے کام لوں گا۔ اور دوسرے اتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا ، پیسے لا کر ہمیں دیدو تم لکھنا پڑھنا چھوڑ دو تمہارے مولوی ان لوگوں کو اور خراب کر دیں گے ۔ تم قلمیں اسْطَاعُوا روک لو اور زبانیں بند کر لو باقی تمہارے پاس جو پیسے ہیں اگر چاہو تو ان سے مدد کر دو۔ فَمَا اعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْباً ۲۷۔ پھر یا تو دشمن چڑھتا چلا آ رہا تھا اور درمیانی قوم کو کھا رہا تھا۔ اس قوم کو درمیانی قرار دینے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں کے راستہ میں یہ روک ہے اگر یہ نہ رہی تو پھر باقی مسلمانوں کی بھی خیر نہیں۔ مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ احمدی اس دشمن کے راستہ میں دیواریں بنائیں گے اس کو مسلمانوں پر غالب ہونے سے روک دیں گے۔ پس کامیابی احمدی قوم کو ہی ہوگی۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ ان آیات میں ملکانہ قوم کا ہی ذکر ہے۔ سب جگہ ایسی قومیں موجود ہیں کہ وہ لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر غیروں سے ان کا تعلق ہے ایسی قوموں کو غیر کھانا چاہیں گے ۔ ان کی حفاظت اگر ہو گی تو حضرت مسیح موعود کی جماعت کے ذریعہ ہی ہوگی۔ اوروں کی حفاظت ان کے لئے اور زیادہ مضر ثابت ہو گی۔ ان کا کام یہی ہے کہ اپنی قلمیں اس جماعت کے حوالہ کر دیں اور اپنے سکے اس کے آگے ڈال دیں کہ میں ان کے پاس دینے والی چیزیں ہیں۔ ایمان عرفان اور دلائل تو ان کے پاس ہیں ہی نہیں اگر دے سکتے ہیں تو روپیہ ہی دے سکتے ہیں۔ یہ ایک پیشگوئی ہے جو ان تمام قوموں کے متعلق ہے جن کی حالت ملکانوں جیسی ہے اور اس پیشگوئی میں یہ بھی خوش خبری ہے کہ جلد یا بدیر کامیابی مسیح موعود کی جماعت کو ہی ہوگی۔ بعض ﷺ دفعہ دشمن کو درمیانی خوشی حاصل ہو جاتی ہے مگر وہ عارضی ہوتی ہے۔ جیسا کہ رسول کریم ا کو جب مکہ سے آنا پڑا ۔ تو کفار بڑے خوش ہوئے ہوں گے کہ ہم غالب آگئے لیکن دراصل رسول کریم کا مکہ سے آنا ہی ان لوگوں کی تباہی اور بربادی کا سامان تھا جس کا انہیں بہت جلد علم ہو گیا۔ پس اگر ہمیں درمیان میں مشکلات پیش آئیں اور بظاہر کامیابی دشمن کو نظر آئے تو کوئی گھبرانے کی دوشمن کو نظر آئے تو کوئی گے بات نہیں انجام کار ہماری جماعت کو ہی فتح حاصل ہوگی اور مسلمانوں کو بھی کہنا پڑے گا کہ ہم قلمیں دے دیتے ہیں ہمیں ان دشمنوں سے تم ہی بچاؤ۔ بھی (الفضل ۲۲۔ مارچ ۱۹۲۳ء)