انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 206

انوار العلوم جلدے ۲۰۶ تحریک شدھی ملکانا ہے کہ جو بگڑے ہوئے چشمہ کی طرح ہیں ان میں سورج ڈوب رہا ہے۔ کسی وقت ان کے پاس مصفی پانی تھا مگر اس وقت خراب ہو گیا ہو گا اور ان کی تعلیم بالکل بگڑ چکی ہوگی۔ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْماً ۔ ایسی بگڑی ہوئی تعلیموں کے پاس ایسی قوم کو پائے گا۔ زمانہ کے حالات کے ماتحت کہہ سکتے ہیں کہ اس قوم میں ہندو بھی شامل ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے ان کو بھی اہل کتاب قرار دیا ہے مگر ان کے متعلق ایک بات رہ جاتی ہے اور وہ سورج کے ڈوبنے کی ہے کہ پھر ان میں سورج کس طرح ڈوبا اس کے متعلق اگر ظاہری معنی لئے جائیں تو یہ ہیں کہ ہندو بھی مغرب سے ہی آتے ہیں۔ پھر سورج ڈوبنے سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس قوم کا خاتمہ اور انتہاء ہو جائے گی ان کا چشمہ گندا ہو چکا ہو گانور اور معرفت مٹ چکی ہوگی ۔ قُلْنَا يُذَ الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا - اللہ تعالی نے ذوالقرنین کو کہا چاہے تو تو ان کو عذاب دے ۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے تو انکے لئے عذاب کی دعا کر اور چاہے تو ان کو ہدایت دے سیدھا رستہ بتلا۔ قالَ اما مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّا ذبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُه عَذَا فَيُعَذِّبُهُ عَذَا بانكرا ۔ ۲۔ وہ کہے گا جو کوئی ظلم کرے گا اسے عذاب دیا جائے گا پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا اور اسے عذاب ملے گا۔ وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى ، اور جو کوئی ایمان لائے گا اور اچھے عمل کرے گا مسیح موعود ان کے لئے دعا کرے گا اور ان کو اچھا بدلا ملے گا۔ وَسَتَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا ۱۸ اور وہ ان کو کہے گا آسان اور اچھی بات جو ہم اسے کہیں گے ۔ یعنی دوسرے لو ے لوگ تو يسرا کہیں گے کہ کافروں کو تلوار سے قتل کر دینا چاہئے مگر وہ کہے گا: نرمی سے معاملہ ہونا چاہئے۔ ہاں اگر کوئی ظالم تلوار اٹھاتا ہے تو اس کے مقابلہ کے لئے تم بھی تلوار اٹھاؤ ثُمَّ اتْبَعَ اَتْبَعَ سُبَبًا۔ سُبا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطِلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا "۔ پھر وہ ایک اور قوم کی طرف جائے گا جو اس جگہ ہوگی جہاں سے سورج چڑھتا ہو گا اور وہ دیکھے گا کہ اس قوم اور سورج کے درمیان کوئی روک نہیں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مسلمان ہیں ان کا چشمہ تو خراب نہیں ہوا اور سورج چڑھا ہوا ہے۔ یعنی قرآن کریم موجود ہے مگر یہ ظاہر پرست ہو گئے ہیں اصل فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ ۲۰ پھر اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ جب سورج چڑھتا ہے تو گرمی سے تکلیف بھی ہوتی ہے اور