انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 185

انوار العلوم جلدے ۱۸۵ تحریک شد هی ملکانا ہمیں محض اللہ تعالی کے فضل اور اس کی مہربانی سے یہ رتبہ حاصل ہے ورنہ ہماری حالت نہایت ناتوان ہے۔ غور کرو جن پر آریوں کا حملہ ہے وہ احمدی نہیں بلکہ غیر احمدی ہیں اس لئے وہ عام مسلمانوں کے بھائی بند ہیں۔ مگر ان میں کچھ جوش نہیں البتہ گھبراہٹ ہے۔ ابھی راستہ میں مہر محمد خان نائب ایڈیٹر الفضل سے ذکر کرتا آرہا تھا انہوں نے کہا مسلمان اخباروں کی آواز نہایت دھیمی اور مایوسانہ ہے مگر اس کے مقابلہ میں آریوں کی آواز میں زور ہے۔ میں نے کہا مسلمانوں کی اس وقت تو ایسی ہی حالت ہے جیسا کہ مفتوح اور مغلوب ہو اور اپنے فاتح سے منتیں کرے کہ مجھے چھوڑ دو اس لئے ان کی آواز ایسی ہی ہونی چاہئے ۔ اور آریوں کی یہ حالت ہے کہ جیسے ایک ظالم و جابر کسی بچے کو نیچے دبوچ کے سمجھے کہ جب چاہوں گا اس کا گلا دبا دوں گا۔ مسلمانوں اور آریوں دونوں کی آواز میں بتاتی ہیں کہ ان میں بڑا فرق ہے۔ مسلمانوں کی آواز تو ایسی ہے کہ گویا وہ اپنے آپ کو آریوں کے رحم پر سمجھتے ہیں اور آریوں کی آواز ایسی ہے جو ایک فاتح اور غالب کی ہوتی ہے اور وہ دشمن کو اپنے رحم پر سمجھتا ہے۔ اس وقت ہماری جماعت کا یہ دعوی ہے کہ ہم ان مظالم سے مسلمانوں کو بچائیں گے مگر بظاہر ہماری مثال اس جانور کی ہے جو رات کو الٹا سوتا ہے۔ کہتے ہیں کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ اگر آسمان گر پڑے تو میں اپنے پاؤں سے تھام لوں مسلمانوں میں خواہ کتنے نقص ہوں مگر وہ اسلام کے نام لیوا ہیں۔ مخالفوں کی تعداد ستائیس کروڑ ہے اور مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ بے پرواہ ہیں۔ دنیاوی حالات کو دیکھ کر ہمیں گھبرانا چاہئے۔ لیکن یہ سورہ اس حالت میں ہماری ہمت بندھاتی ہے کہ غالب تمہیں ہو گے ۔ جس وقت آنحضرت ا مکہ میں تشریف رکھتے تھے اس وقت آپ کو وہاں کھلے طور پر نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ مسلمان عورتیں گرم ریت پر لٹائی جاتی تھیں اور ان کی شرم گاہوں میں نیزے مارے جاتے تھے۔ مسلمان تپتے ہوئے پتھروں پر لٹائے جاتے تھے۔ اور ایسے ایسے عذاب دے کر ان کو اسلام چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ وہ ایسا وقت تھا کہ مسلمان گلیوں میں بھی نہ پھر سکتے تھے اور ناچار ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ اس وقت اللہ تعالٰی محمد اللہ کو کہتا ہے الحمد اللہ پڑھ اور آپ نے پڑھا اور سچے دل سے پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے تو اللہ تعالی میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں۔ میرے ارد گرد تو خوشیاں ہی خوشیاں ہیں کوئی رنج نہیں کوئی