انوارالعلوم (جلد 7) — Page 184
انوار العلوم جلدے ۱۸۴ تحریک شد ھی ملکانا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ملکانے جانے والے وفد سے خطاب ۱۲ - مارچ ۱۹۲۳ ء بعد نماز نماز ظہر جب جماعت احمدیہ کا پہلا وقد بطور ہر اول راجپوتا۔ بطور ہر اول راجپوتانے کی طرف زیر امارت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم اے ناظر تالیف و اشاعت و سابق مبلغ اسلام و بلادِ یورپ روانہ ہوا تو حضرت خلیفہ المسیح اس وفد کو الوداع کرنے کے لئے قاد نے کے لئے قادیان کی سڑک کے موڑ تک تشریف لے گئے ۔ قادیان کی احمدی آبادی کا ایک بڑا حصہ بھی ہمرکاب تھا۔ جب حضور موڑ کے کنویں پر پہنچے تو ممبران وفد کو اپنے سامنے بیٹھنے کا حکم دیا اور پھر حسب ذیل تقریر فرمائی :- سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں اپنے ان دوستوں کو جو اس وقت محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور کلمہ اسلام کے اعلاء کے لئے سفر پر جا رہے ہیں اور تبلیغ اسلام کے مبارک مقصد کو زیر نظر رکھ کر اور خدا پر توکل کر کے یہاں سے روانہ ہو رہے ہیں ان کو اور جو ان دوستوں کو چھوڑنے آئے ہیں اس سورۃ کے مضمون پر جو میں نے اس وقت تلاوت کی ہے توجہ دلاتا ہوں :- بعض کہتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض کہتے ہیں مکہ میں۔ مگر تحقیق کی رو سے یہی ثابت ہوا ہے کہ یہ سورۃ دو دفعہ نازل ہوئی ہے۔ ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں۔ اس سورۃ کا ہمارے اس کام سے تعلق ہے ۔ تمام دنیا ہماری مخالف ہے۔ دنیا کے پاس جس قدر مال و دولت اور آدمی ہیں اگر ان آدمیوں میں ایسا ہی اخلاص ہو جیسا کہ ہم میں ہے ہم تو ان کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ۔ یہ اللہ کا ہم پر فضل ہے کہ گو ہم تعداد میں بہت تھوڑے ہیں لیکن ہمارے لوگ جس جوش سے اٹھتے ہیں اس کی اس وقت کوئی نظیر نہیں مل سکتی ۔ وہ جو ہماری مخالف جماعتیں ہیں اگر اسی جوش و اخلاص سے خدا کی راہ میں تبلیغ اسلام کے لئے چندہ دیں تو اس چندہ کے لئے بنکوں میں رکھنے کے لئے جگہ نہ رہے۔ ہندوستان میں مسلمان آٹھ کروڑ بتائے جاتے ہیں لیکن ان میں اسلام کے لئے اس جوش و اخلاص کا نام و نشان بھی نہیں جو ہماری چند لاکھ کی جماعت میں ہے۔