انوارالعلوم (جلد 7) — Page 186
انوار العلوم جلدے تحریک شد هی ملکانا دکھ نہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ میں الْحَمْدُ اللهِ رَبِّ الْعَلَمِين نہ کہوں۔ کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اس وقت ان حالات میں کوئی اور خوش ہو سکتا تھا ہرگز نہیں۔ مگر جہاں ابتداء الحمد سے ہوئی وہاں اخیر بھی اخِرُ دَعُونَهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمین لے پر ہے چنانچہ خدا کے فضلوں نے ثابت کر دیا کہ کون راستی پر تھا۔ اور کس کو طاقت اور قدرت حاصل ہوئی تھی۔ آپ کے مخالف اور مخالفتیں سب اڑ گئیں اور سکھ مسلمانوں کے لئے ہی رہ گیا ہے۔ دنیاوی راحت میں دوسرے بھی شریک تھے لیکن روحانی راحت اور آرام کا مسلمانوں کے سوا کہیں پتہ نہ تھا۔ کیونکہ گو وہ اپنے کو چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا دیکھتے تھے مگر اپنے دل کو مطمئن پاتے تھے اس لئے کہ خدا کی مردانہی کے شامل حال تھی۔ آج مسلمان مخالفوں کے مقابلہ میں میدان میں نہیں جاتے ہاں دشمنوں کے ساتھ مل کر ہمیں زخمی کرتے ہیں مگر تم نے اسلام کے لئے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جاتا ہے اور یاد رکھو کامیاب وہی ہو گا جس کو خدا پر بھروسہ اور یقین ہو گا اور پھر وہ مخالفوں کے مقابلہ میں کام کرے گا۔ تمہارے دلوں مین ایمان اور اطمینان ہونا چاہئے دل کا ایمان و اطمینان ہی مشکلات کے وقت تمہارے کام آئے گا۔ اس وقت تمہاری بھی وہی حالت ہے جو ابتداء میں مسلمانوں کی تھی۔ وہ ایک قلیل جماعت تھے اور لوگ ان کو قلیل جماعت سمجھتے تھے لیکن وہ بزدل نہ تھے کیونکہ مسلمان بزدل نہیں ہوتے ان کے دل میں ایمان اور خدا کی مدد پر ان کو بھروسہ ہوتا ہے۔ ایک دفعہ مخالفین کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد نہایت قلیل تھی۔ مسلمان افسر نے حضرت عمر کو لکھا کہ مدد کیجئے۔ وہاں مدد کے لئے سپاہی موجود نہ تھے ۔ حضرت عمر نے ایک سپاہی بھیجا اور لکھ دیا کہ میں فلاں سپاہی کو بھیجتا ہوں جو ایک ہزار سپاہی کے برابر ہے۔ کیا تم خیال کرتے ہو اس وقت کمانڈر نے کیا کہا ہو گا۔ کیا اس نے سر پیٹ لیا ہو گا کہ کیسے خلیفہ ہیں میں مدد کے لئے لکھتا ہوں اور وہ ایک آدمی بھیجتے ہیں۔ نہیں یہ نہیں بلکہ جس وقت وہ ایک آدمی اسلامی لشکر میں پہنچا۔ تو مسلمانوں نے اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے اور بڑی خوشی سے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور انہوں نے یقین کیا کہ اب دشمن ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکے گا کیونکہ ان کی نظر اپنی قلت پر نہ تھی بلکہ خدا کی قوت پر تھی۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور جو خدا کا مقابلہ کرتا ہے وہ ضرور ہلاک ہو گا۔ پس تم بھی یقین کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے اور تم اس نبی کے ہاتھ پر بیع ہو چکے ہو جس