انوارالعلوم (جلد 7) — Page xiii
انوار العلوم جلد ۷ اعلان بابت فتنه ارتداد تعارف کتب مسلم پریس نے شدھی کے خلاف آواز تو مارچ ۱۹۲۳ء میں بلند کی مگر سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۹۲۳ء کے آغاز میں ہی اس فتنہ کی طرف توجہ دلائی اور یہ معلوم ہوتے ہی کہ ایک قوم کی قوم ارتداد کے لئے تیار ہے سخت بے تاب ہو گئے اور اس کے تدارک کے لئے وسیع پیمانے پر ایک زبردست حکیم تیار کی چنانچہ حضور نے ، مارچ ۱۹۲۳ء کو نماز عصر کے بعد درس القرآن سے پہلے اعلان فرمایا کہ جماعت احمد یہ فتنہ ارتداد کے خلاف جہاد کا۔ علم بلند کرنے کی غرض سے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائے۔ ساڑھے چار لاکھ مسلمان ارتداد کے لئے تیار ہیں - مارچ ۱۹۲۳ء کو خطبہ جمعہ میں حضور نے شدھی کے تدارک کے لئے تھیں مبالغین اور پچاس ہزار روپے کی تحریک فرمائی۔ حضور نے اسلام سے محبت رکھنے والے دیگر لوگوں کو بھی جھنجھوڑا اور فرمایا کہ آریہ لوگ جس قوم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر چہ ساڑھے چار لاکھ ہیں۔ مگر ان کے پیچھے ایسی حالت کے ایک کروڑ آدمی اور ہیں۔ خطرہ نہایت سخت ہے۔ اگر آج کچھ نہ کیا گیا تو کل اس کا علاج بالکل نا ممکن ہو جائے گا۔ ملکانے جانے والے وفد سے خطاب شدھی تحریک کے جلد تدارک کے لئے حضور کے جذبہ کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ۱۲۔ مارچ ۱۹۲۳ء کو بعد نماز ظہر جب مجاہدین کا پہلا وقد راجپوتانے کی طرف روانہ ہوا تو حضور بنفس نفیس اس وفد کو الوداع کرنے کے لئے بٹالہ کے موڑ تک تشریف لے گئے اور وفد کے اراکین اور الوداع کہنے والے احباب سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ”یاد رکھو کامیاب وہی ہو گا جس کو خدا پر بھروسہ اور یقین ہو گا پس تم بھی یقین کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے اور تم اس نبی کے ہاتھ پر بیع ہو چکے ہو جس سے خدا نے وعدہ کیا تھا کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا پس تم خدا پر توکل کر وفتح تمہاری ہوگی " १९