انوارالعلوم (جلد 7) — Page xiv
انوار العلوم جلد کے راجپوتوں کے ارتداد کا فتنہ تعارف کتب ۱۴۔ مارچ ۱۹۲۳ء کو بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں حضرت المصلح الموعود نے پُر اثر خطاب فرمایا اور اس وسوسے کا کہ فتنہ ارتداد کو روکنے کی ہمیں کیا ضرورت ہے تفصیلی اور موثر جواب دیا۔ حضور نے فرمایا ”اگرچہ غیر احمدیوں کی طرف سے ہماری راہ میں مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں گالیاں دی جاتی ہیں دکھ دیئے جاتے ہیں باوجود اس شدید مخالفت اور دشمنی کے اس نازک وقت میں ان کی نگاہیں بھی ہماری طرف اٹھ رہی ہیں اور اس وقت یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ احمدی کہاں ہیں ؟ کیوں اس فتنہ ارتداد کو روکنے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے؟ پس ان کے دل مانتے ہیں کہ اگر کوئی جماعت خدمت اسلام کر سکتی ہے اور خدا تعالی کی نصرت کسی جماعت کو مل سکتی ہے تو وہ احمدی جماعت ہے تو اس موقع کو جانے نہیں دینا چاہئے۔" ایک کروڑ مسلمان ارتداد کی چوکھٹ پر سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۳- انے ۲۳- مارچ ۱۹۲۳ء کو ایک اور اشتہار دیا جس میں حضور نے علاقہ ارتداد کی نازک صورتحال سے مسلمانوں کو آگاہ فرمایا اور پیشکش کی کہ ہم کسی بھی جماعت یا مسلم تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ نیز مجاہدین کی تعداد ڈیڑھ سو سے بڑھا کر تین سو کرنے کا اعلان فرمایا اور جماعت کو اس جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔ ہیں اور احمدی خدام دین کی ضرورت مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۲۳ء کو بوقت صبح مسجد مبارک قادیان میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے خطاب فرمایا جس میں ۲۰ مزید احمدی خدام کی ضرورت کی اپیل کی اس پر فوری طور پر ۱۱۹ درخواستیں پیش ہو گئیں جن میں سے ۲۲ مجاہدین کو منتخب کرکے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ حضور نے فرمایا ”جو لوگ ہمیں جہاد کے منکر کہتے تھے آج اللہ تعالی نے ہمیں تو جہاد کا موقع دے دیا اور جو تلوار کے جہاد کے قائل تھے اللہ تعالٰی نے انہیں جہاد سے محروم رکھا۔