انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page xii

انوار العلوم جلد ہے 4 تعارف کتب جس کثرت اور تیزی سے یہ تو میں اسلام میں داخل ہوئیں۔ اس تیزی اور وسیع پیمانے پر ان کی اسلامی رنگ میں تعلیم و تربیت اور نگہداشت کا انتظام نہ ہو سکا۔ اس طرح وہ اسلامی تعلیم و تربیت سے بالکل محروم رہیں۔ چونکہ وہ اسلام کو سچا مذہب سمجھ کر مسلمان ہوئی تھیں۔ اس لئے اپنے آپ کو مسلمان ہی سمجھتی اور کہتی رہیں۔ مگر مسلمان کہلوانے کے سوا ان کا رہن سہن، کھانا پینا بول چال برتاؤ رسم و رواج سب ہندوانہ تھے۔ ان کے کئی دور اس حالت میں گزر گئے۔ سناتنی ہندو اپنے عقائد کی رو سے غیر مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے یہ برائے نام مسلمان ایک عرصہ تک ہندو ہونے سے بچے رہے۔ اٹھارھویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پنڈت دیانند سرسوتی کی کوشش سے ایک نیا فرقہ آریہ ظہور میں آیا جو غیر مذاہب والوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لینے کا قائل اور اس کے لئے بڑا شوق و جوش رکھنے والا تھا۔ چنانچہ اس نے ( موقع پاتے ہی) شدھی یعنی غیر مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ آریہ فرقہ نے ملکانے راجپوتوں میں بھی اپنا کام شروع کر دیا ۔ مگر بہت احتیاط بڑی ہوشیاری اور نہایت آہستہ روی سے وہ ان قوموں کو قابو میں لانے کے لئے سالہا سال تک دو حربے ان پر چلاتا رہا۔ پہلا یہ کہ مسلمان بادشاہوں نے صدیوں پہلے تمہارے دادوں پر دادوں کو زبردستی ہندو دھرم سے الگ کر کے مسلمان بنا لیا تھا۔ اس اپنا لیا تھا ۔ اب تو کوئی زبردستی نہیں ہے پھر کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ جن کے بزرگوں سے جبراً ان کا دھرم چھڑوایا گیا وہ اپنے بزرگوں کے دھرم میں واپس نہ آجائیں ؟ دوسرا حربہ مذہب اسلام کو گھناؤنی اور بھیانک سے بھیانک شکل میں دکھانا اور اس پر نفرت دلانے والے الزامات لگاتا تھا۔ آریوں کے یہ دونوں حربے کارگر ثابت ہوئے اور انہوں نے شدھی کا یہ سلسلہ یوپی کے مختلف اضلاع میں بڑے جوش و خروش اور دھوم دھام سے شروع کر دیا۔