انوارالعلوم (جلد 7) — Page 101
انوار العلوم - جلدے میں سے ایک شعر یہ تھا۔ الا كُلُّ ۱۰۱ اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ وَكُلُّ نَعِيمِ لَا مَحَالَةَ زَائِلٌ ترجمہ !سنو ہر ایک چیز سوا اللہ کے ہلاک ہونے والی ہے اور ہر ایک نعمت آخر ضرور ضائع ہو جانے والی ہے۔ اس پر اس صحابی نے کہا یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔ چونکہ عربوں میں بڑوں کا ادب بہت کیا جاتا تھا اس شاعر نے بہت شور مچایا اور کہا کہ اے مکہ کے شرفاء ! تم میں پہلے تو مہمان کو اس طرح ذلیل نہیں کیا جاتا تھا۔ اس پر طیش میں آکر ایک کافر نے اس صحابی کو زور سے مکا مارا کہ اس کی ایک آنکھ کو سخت صدمہ پہنچا۔ اس مجلس میں وہ شخص بھی بیٹھا ہوا تھا جس نے اس صحابی کو اپنی پناہ میں لے رکھا تھا اس نے کہا میری پناہ میں سے نکلنے کا کیا نتیجہ نکلا اب بھی وقت ہے تو میری پناہ میں آجا۔ صحابی نے کہا میری ایک آنکھ کو اگر تکلیف ہوئی تو کیا پرواہ ہے کیا تو سمجھتا ہے کہ میں اس سے تیری پناہ میں آجاؤں گا؟ میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا کی راہ میں اس کو بھی وہی دکھ پہنچے جو پہلی کو پہنچا ہے ۔ ۵۸ اس واقعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں کو یقین ہو کہ ہماری تکالیف کا نیک بدلہ ملنے والا ہے وہ ان تکالیف کو تکالیف ہی نہیں سمجھتے۔ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ نہ بغیر تناسخ کے خدا کے عدل پر اعتراض پڑتا ہے تسلیم کیا جائے کہ اختلاف حالات پچھلے اعمال کے بدلہ میں تھا تو اس سے خدا تعالیٰ کے عدل پر حرف آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک اگر روحیں آزاد شتے ہیں اور کہیں سے پکڑ کر خدا تعالٰی نے انسان کے جسم میں ڈال دی ہیں تو بے شک اس کے انصاف پر حرف آتا ہے ۔ لیکن اگر روحیں انسانی جسم سے ہی پیدا ہوتی ہیں اور بیٹے کی روح اس نطفہ سے ہی پیدا ہوتی ہے جو باپ سے پیدا ہوتا ہے تو اس میں ان قوتوں کا پیدا ہونا جو باپ میں تھیں اور اس کا پیدا ہو کر ان حالات کا وارث ہونا جو باپ کو میسر تھے ایک قدرتی امر ہے اس میں کوئی ظلم نہیں اور جب کہ عقل سلیم صریح طور پر اس امر کی تصدیق کرتی ہے تو اعتراض صرف بے عقلی کا نتیجہ رہ جاتا ہے۔ دوم یہ کہ جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے ہر ایک تغیر کا بدلہ انسان کو مل جاتا ہے۔ پس جب کہ دنیوی تکالیف کا بدلہ بھی انسان کو مل جائے گا تو اس تغیر کے سبب سے خدا تعالی پر اعتراض کیونکر وارد ہوا ؟ نجات