انوارالعلوم (جلد 7) — Page 102
انوار العلوم - جلدے ۱۰۲ نجات تیسرا اعتراض یہ تھا کہ دنیا کی ہر اک بات کا کوئی ہر اک بات کا کوئی سبب ہونا چاہئے سبب ہونا چاہئے پھر اس اختلاف حالات کا کیا سبب 4 ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی ترقی کے لئے ضروری تھا کہ ہر ایک چیز کچھ اثر اپنے اندر رکھے اور کچھ تاثیر۔ اگر یہ دونوں قوتیں مٹادی جائیں تو کل کارخانہ عالم تباہ ہو جاتا ہے۔ پس ان دونوں قوانین کے ماتحت جو بچہ ماں باپ کے ہاں پیدا ہوتا ہے وہ ان کے حالات سے متأثر ہوتا ہے اور اس تغیر کا سبب یہی ہے کہ جن کے گھر میں وہ پیدا ہوا تھا وہ ان حالات میں گزر رہے تھے۔ ایک شخص جو زہر کھاتا ہے مرجاتا ہے اور اگر اس کو کوئی زہر دیتا ہے تو بھی وہ مر جاتا ہے اسی طرح جو بچہ جس باپ کے جسم سے بنتا ہے اپنے سرچشمہ کی طاقتیں بھی حاصل کرتا ہے۔ اگر سر چشمہ کمزور ہے تو وہ بھی کمزور ہوتا ہے اگر سر چشمہ طاقتور ہے تو وہ بھی طاقتور ہوتا ہے۔ پس یہ عام قدرتی سبب ہی اس تغیر کا سبب ہے ۔ چو تھا اعتراض یہ تھا کہ ایک کام کرتے کرتے ادھورے رہ جانے والے کاموں کا اجر انسان مر جاتا ہے وہ کام پورا نہیں ہوتا اس میں بے فائدہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر یہ پچھلے اعمال کی وجہ سے نہیں ہوتا تو کیوں خدا وہ کام کرتا ہے جس کا نتیجہ مرتب نہیں ہوتا؟ اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی کسی انسان کو خاص حکم سے نہیں مارتا بلکہ انسان عام قانون قدرت کی نافرمانی سے یا عام قانون قدرت کی زد میں بلا جانے بوجھے آکر مرتا ہے ۔ مگر اسلام یہ بتاتا ہے کہ اس صورت میں جس نیک کام کو کرتے کرتے انسان مر جاتا ہے اور وہ کام ادھورا رہ جاتا ہے وہ اس کے اعمال میں پورا لکھا جاتا ہے اور بغیر اس کام کے کرنے کے اس کا اجر مل جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی نیکی کا کام کر رہا ہو اور قانون طبعی کے ماتحت اسے موت آجائے تو خدا اس کام کو اس کے حق میں لکھ دے گا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص جس نے بہت سے گناہ کئے تھے اس نے تو بہ کرنی چاہی۔ اس نے ننانوے قتل کئے تھے ایک شخص سے اس نے پوچھا میں تو بہ کر کے اپنے گناہ بخشوا سکتا ہوں یا نہیں ؟ اس نے کہا نہیں۔ اس کو بھی اس نے قتل کر دیا پھر اس کو پشیمانی ہوئی اور خیال آیا شاید میری توبہ قبول ہو جائے ۔ اسے معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ایک شخص رہتا ہے اس سے پوچھنا چاہئے اس کی طرف چل پڑا مگر رستہ میں ہی مر گیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس کے متعلق دوزخ اور بہشت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوا۔ دوزخ کے فرشتے کہتے کہ اس نے توبہ نہیں