انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 100

انوار العلوم - جلدے اس شخص کے سو روپیہ سے زیادہ قدر رکھتی ہے جو تقوی سے خالی ہو ۔ نجات پس یہ کہنا کہ ایک شخص مالدار ماں باپ کے ہاں پیدا ہو کر زیادہ ثواب حاصل کر سکتا ہے جب کہ ایک دوسرا شخص غریب والدین کے ہاں پیدا ہو کر ثواب سے محروم رہ جاتا ہے غلط ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے حضور غریب کا ایک پیسہ مالدار کی بہت بڑی رقم کے برابر سمجھا جائے گا اگر ان دونوں نے اپنی اپنی طاقت کے مطابق صدقہ دے دیا ہے۔ پس نہ امیر کی رعایت ہے نہ غریب پر ظلم ہے۔ اس جگہ یہ اعتراض پڑ سکتا ہے کہ مان لیا کہ جزاء سزا پر اس اختلاف حالات کا کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن اس میں کیا شک ہے کہ اس اختلاف حالات سے ایک کو تکلیف ہوتی ہے دوسرے کو آرام ملتا ہے۔ خدا تعالی ایسا کیوں کرتا ہے؟ گو اس اعتراض کا تناسخ سے کوئی تعلق نہیں لیکن میں اس کا بھی جواب دے دیتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس انتظام کے ماتحت بعض کو تکلیف ہوتی ہے اور بعض آرام سے رہتے ہیں لیکن یہ تکالیف قانون قدرت کے ماتحت آتی ہیں نہ کہ قانون شریعت کے ماتحت ۔ مگر باوجود اس کے احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رحیم و کریم خدا نے بندہ کی اس تکلیف کا بھی خیال رکھا ہے ۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُ رَسُولُ اللَّهِ مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يُلْقِي اللَّهَ تَعَالَى وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ * *٥٧ یعنی خدا پر ایمان لانے والے کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی خواہ اس کی جان کے متعلق خواہ اولاد خواہ مال کے متعلق کہ اس کے بدلہ میں جب وہ خدا سے ملتا ہے تو اس کے گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ قانون قدرت کے ماتحت بھی جو تکالیف پہنچ جاتی ہیں ان کا بدلہ انسان کو مل جاتا ہے اور جب بہتر بدلہ مل گیا تو اعتراض نہ رہا۔ اب بتاؤ جو شخص لنگڑا ہو اسے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس وجہ سے میں جنت کے قریب ہو گیا ہوں تو وہ ضرور کہے گا کہ مجھے اس حالت کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اخروی انعامات اعلیٰ ہیں۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ کچھ صحابی کفار کے مظالم کی وجہ سے حبشہ چلے گئے تھے ۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ امن ہو گیا ہے تو واپس آگئے۔ ان میں سے ایک شخص کو ایک رئیس نے اپنی پناہ میں لے لیا۔ وہ جس کو پناہ میں لیا گیا تھا اس نے ایک دن دیکھا کہ ایک کافر ایک مسلمان کو مار رہا ہے اس نے جاکر رئیس کو کہہ دیا کہ میں آئندہ آ۔ آپ کی پناہ میں نہیں رہتا میں یہ نہیں برداشت کر سکتا کہ دوسرے مسلمان ماریں کھائیں اور میں آپ کی پناہ کی وجہ سے بچار ہوں اس کی پناہ سے نکلنے کے بعد ایک دن کفار ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شاعر نے اپنے شعر سنانے شروع کئے جن