انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 99

انوار العلوم - جلدے بڑے اجر کے ساتھ فضیلت دی ہے۔ ۹۹ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف وہ لوگ مجاہدوں سے درجہ میں کم ہوں گے جو طاقت رکھتے ہوئے سستی کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو طاقت نہیں رکھتے وہ اگر دل سے خواہش رکھتے ہوں تو اللہ کے رستہ میں جہاد کرنے کے لئے نکلنے والوں کے برابر ہی ہیں۔ نجات پس معلوم ہوا کہ خدا تعالی ہر ایک انسان کی مجبوریوں کو مد نظر رکھے گا اور ان کا لحاظ رکھ کر بدلہ دے گا۔ حدیثوں میں اس کی تصریح موجود ہے۔ چنانچہ بخاری اور مسند احمد میں انس کی روایت ہے کہ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرَ ثُمَّ مِنْ سَيرِ وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ اوَهُمْ بِالْمَدِينَةِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ حَبَسَهُمُ الْعَذْرُ ٥٥ ، یعنی ایک دفعہ رسول کریم ایک جنگ کے لئے جا رہے تجھے راستہ میں آپ نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ایسے ہیں کہ تم کوئی سفر طے نہیں کرتے اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں (یعنی تمہارے برابر ثواب پالیتے ہیں) صحابہ نے کہا یا رسول اللہ باوجود اس کے کہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں کیونکہ ان کو عذر نے روکا ہوا ہے۔ اور نہ دل سے وہ چاہتے تھے کہ جنگ میں ساتھ جائیں) اس حدیث سے کسی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک اختلاف حالات کو سزاء جزا دیتے وقت اللہ تعالی مد نظر رکھ لے گا۔ حتی کہ ایک اگر عذر کی وجہ سے گھر بیٹھ رہتا ہے تو وہ انہی لوگوں کے ساتھ سمجھا جاتا ہے جو جہاد میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُو اللَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيم - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو ان احکام کو پورا کرنے کی جو لوگ طاقت نہیں رکھتے ان سے پوچھا نہیں جائے گا اور نہ ان سے جو مریض ہوں اور نہ ان سے جن کے پاس روپیہ نہیں جب کہ ان کے دل میں نیت ہو کہ اگر یہ عذر نہ ہوں تو ہم بھی ایسا ہی کریں۔ اسی طرح آتا ہے لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَالكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ ۵۷- پہلی آیت میں جن عذروں کا ذکر ہے وہ جسمانی ہیں۔ اس آیت میں مالی کمزوریوں کے متعلق فرماتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ فلاں نے اتنا مال دیا ہے اور ہم نے اس سے اتنا زیادہ دیا ہے خدا کو مال نہیں پہنچتا بلکہ وہ چیز پہنچتی ہے جو دلوں میں ہوتی ہے۔ جس کے پاس تقوی ہو اس کی اٹھنی بھی ب