انوارالعلوم (جلد 7) — Page 85
انوار العلوم - جلد ۸۵ نجات چلیں تو مایوس نہیں ہوتا بلکہ خوش ہی رہتا ہے وجہ یہ کہ جس کو کسی کی دوستی پر اعتماد ہو اس کے متعلق وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ اسے ہلاک کرے گا۔ کیا بچہ ماں کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ مار دے گی؟ ہرگز نہیں اسی طرح جو انسان خدا تعالی کی گود میں اپنے آپ کو بچہ کی طرح سمجھتا ہے وہ یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ خواہ اس پر کس قدر مشکلات اور مصائب آئیں خدا اسے تباہ نہیں ہونے دے گا۔ اب اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہئے کہ کیا میں نجات سے دور جانے والے کی علامتیں نجات سے دور جا رہا ہوں تو کیسی باتیں الٹ دیکھ لے۔ مثلاً (1) بدی کرے اور اس پر ندامت نہ ہو اور نیکی کرے تو خوشی نہ ہو۔ (۲) یہ کہ نفس کمزوری اور برائی پر پردے ڈالے گا اور اس کو برائی قرار نہیں دے گا۔ (۳) اگر کوئی نیکی کرے تو نفس اس پر عجب اور فخر کرے ۔ (۴) اس کے اعمال میں ریاء ہو گا۔ (۵) لوگوں سے ہمدردی کی بجائے اس کے دل میں بغض بڑھتا جائے گا اور ایسا انسان نجات نہیں پاسکتا۔ کیونکہ خدا تعالی قدوس ہے اور نجات خدا تعالی سے ملنا ہے اس لئے جو شخص اپنے دل میں کینہ رکھتا ہے وہ کس طرح نجات پاسکتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے دو صفات ایسی ہیں جن میں سے ایک کا کم استعمال برائی ہے اور زیادہ استعمال نیکی اور دوسری صفت کا کم استعمال اچھا ہے اور زیادہ استعمال برا۔ مثلاً غضب کا استعمال جائز ہے مگر بلا وجہ جائز نہیں اور رحم بلا سبب بھی جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غضب کی صفت مقید ہے اس کا استعمال ہر جگہ جائز نہیں لیکن دوسری صفت ایسی ہے کہ اس کا استعمال اکثر اوقات ضروری ہے اور بعض اوقات جائز اور بہت ہی قلیل موقعوں پر نا جائز۔ پس اگر کوئی شخص دیکھے کہ بری صفت اس کے ساتھ لگی رہتی ہے اور اچھی صفت بہت کم ظاہر ہوتی ہے تو سمجھے کہ میں گندا ہو گیا ہوں اور نجات سے دور جا رہا ہوں (۶) اگر وہ خدا کے کام کو اپنا کام نہ سمجھے ۔ مثلاً کوئی دینی نقصان ہو جائے مگر بجائے اس کے کہ اس پر اسے غم ہو وہ طعنے دے اور ہنسی تمسخر کرے تو وہ نجات سے دور جا رہا ہے۔ منافقوں کے متعلق آتا ہے کہ لڑائیوں کے وقت جب مسلمانوں کا نقصان ہوتا تو وہ طعنے دیتے اور ہنسی تمسخر کرتے مگر جہاں محبت ہو وہاں ایسا نہیں کیا جاتا۔ دیکھو اگر کسی کا لڑکا کوٹھے پر سے گر پڑے تو وہ لڑکے پر اعتراض کرنے شروع کر دیتا ہے اس سے تمسخر کرتا ہے یا روتا ہے ؟ وہ روتا ہے اعتراض نہیں کرتا۔ پس جس سے محبت ہو اگر اس کا نقصان ہو تو اعتراض کا انسان کے دل میں خیال ہی پیدا نہیں ہو تا بلکہ رنج اور غم اور