انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 84

انوار العلوم - جلدے نجات پانچویں علامت یہ ہے کہ دیکھے کہ اس کے دل میں لوگوں کی ہمد روی بڑھتی جا رہی ہے یا نہیں ؟ اگر یہ ترقی کر رہی ہے تو سمجھے کہ نجات کی طرف جا رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ ماں باپ سے جدا ہو تو چھوٹے بچے بھی اس کو مارنے لگ جاتے ہیں اور ماں باپ کے سامنے بڑے بھی نہیں مار سکتے۔ نجات کے معنی خدا تعالی کے پاس جانے کے ہیں اور جوں جوں کوئی نجات کے قریب ہو گا خدا کے قریب ہوتا جائے گا اور خدا کے دوسرے بندوں کو تکلیف دینے کی بجائے ان سے محبت کا خیال اس کے دل میں بڑھتا جائے گا۔ چھٹی علامت یہ ہے کہ خدا کے کام کو اپنا کام سمجھے۔ یعنی دین کے کام کو اپنا فرض سمجھے۔ دین کا نقصان ہوتا دیکھ کر اس کو اتنا ہی صدمہ ہو جتنا اپنا نقصان ہونے پر ہو ۔ جیسے یہاں ہی پچھلے دنوں نقصان ہوا۔ ایک شخص روپیہ لا رہا تھا جو قومی روپیہ تھا مگر اس سے گم ہو گیا۔ اس پر اگر کوئی ہنسی کرتا ہے تو اس کی حالت خراب ہے۔ پس دینی نقصان کو اپنا نقصان سمجھنا بھی ایک علامت ہے۔ ساتویں علامت یہ ہے کہ اس کے لئے معرفت کی کھڑکی کھولی جاتی ہے اور وہ اپنے دل میں خوشبوئے اتصال پاتا ہے یہ اندرونی احساس ہے۔ آٹھویں علامت یہ ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر سن کر اس کا دل ڈر جاتا ہے خواہ کتنے ہی جوش اور غصہ میں ہو خدا تعالیٰ کا جب نام آجائے تو گھر جاتا ہے اور سوچ لیتا ہے کہ میں اللہ تعالٰی کے نام کی عظمت کے خلاف تو کام نہیں کرتا؟ اگر کوئی دیکھے کہ خواہ کتنے ہی جوش میں ہوں خدا کا نام آنے پر رک جاتا ہوں اور بلا غور کئے کے آگے نہیں بڑھتا تو سمجھ لے کہ یہ ایمان کی علامت ہے اور یہ کہ وہ نجات کی طرف جا رہا ہے۔ نویں علامت یہ ہے کہ اپنی بدیوں پر اطلاع ملنے لگ جائے ۔ جب انسان خدا تعالی کے قریب ہوتا ہے تو چھوٹی چھوٹی بدیاں بھی نظر آنے لگ جاتی ہیں اور ساتھ ہی ان کی دلیل بھی معلوم ہو جاتی ہے۔ دسویں علامت یہ ہے کہ ایسے انسان کے لئے نیکیوں کی باریک درباریک راہیں کھولی جاتی ہیں۔ کئی نیکیاں جو اس کے خیال میں بھی نہیں ہوتیں وہ اسے معلوم ہو جاتی ہیں۔ گیارھویں علامت یہ ہے کہ ایسا انسان ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی قضاء پر خوش ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مشکل کے آنے پر تدبیریں نہیں کرتا۔ تدبیریں کرتا ہے لیکن اگر وہ نہ