انوارالعلوم (جلد 7) — Page 86
انوار العلوم - جلدے ۸۶ نجات صدمہ پہنچتا ہے۔ دیکھو اگر کسی کا بچہ جل جائے تو اس وقت ماں بچہ کو یہ نہیں کہتی کہ میں نہ کہتی تھی آگ کے پاس نہ جاؤ بلکہ اس وقت سوائے صدمہ کے اس کے دل میں اور کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا (۷) معرفت کی کھڑکی کھلنے کی بجائے اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ دینی علوم اسے نہیں سوجھتے ۔ پس ایسا شخص سمجھے کہ میں نیچے جا رہا ہوں (۸) غصہ اور جوش کی حالت میں خدا تعالی کا نام سن کر ڈر نہ پیدا ہو (۹) موٹی موٹی بدیاں بھی جب اس کی نظر سے چھتی جائیں تو سمجھے کہ نجات سے دور جا رہا ہوں (۱۰) نیکیوں کا دروازہ کھلتا نظر نہ آئے (۱۱) خدا کی قضاء پر رنج ہو ۔ اس جگہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ پچھلی علامتوں سے انسان یہ تو اس جگہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ پچھلی نجات یافتہ کی علامتیں معلوم کر سکتا ہے کہ میں نجات کی طرف جا رہا ہوں لیکن اسے یہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ نجات حاصل کر چکا ہے ؟ گو اس کا یہ جواب ہو سکتا ہے اور ہے کہ پہلی باتیں جو بیان کی گئی ہیں جب وہ کثرت سے اور شدت سے پیدا ہو جائیں تو انسان سمجھ لے کہ نجات حاصل ہو گئی ہے لیکن انسانی فطرت چاہتی ہے کہ قیاس سے بڑھ کر علم اسے حاصل ہو اور اس فطرتی تقاضا کو صرف اسلام ہی پورا کرتا ہے اور کوئی مذہب نہیں کرتا۔ نجات یا فلاح اللہ تعالٰی سے تعلق پیدا کر لینے کا نام ہے اور نجات کا یقین کسی کو تب ہی ہو سکتا ہے کہ اسے خدا تعالٰی کی دوستی اور محبت کے آثار نظر آنے لگ جائیں۔ دیکھو اگر کوئی شخص یہاں بیٹھا ہو اور اسے کہا جائے کہ بادشاہ تم پر خوش ہے تو اسے کس طرح معلوم ہو گا ؟ اسی طرح کہ بادشاہ کی خوشنودی کی اسے چشمی آجائے یا پھر اس طرح کہ بادشاہ سے وہ خود ملے اور وہ اسے بتائے ۔ پس دوستی کا تعلق دو طرح ہی معلوم ہو سکتا ہے (1) قولی طریق سے (۲) عملی طریق سے۔ یعنی یا تو خدا تعالیٰ اپنے منہ سے کہہ دے کہ میں تمہارا دوست ہوں یا اپنے عمل سے اس بات کو ظاہر کر دے اور جس کو یہ بات حاصل ہو جائے اس کو سمجھنا چاہئے کہ اسے نجات کا اصل مقام حاصل ہو گیا ہے ورنہ ڈر ہے کہ اسے نجات کے متعلق دھوکا ہی لگا ر ہے اور اگلے جہان میں جا کر حقیقت کا پتہ لگے ۔ اسلام خدا تعالی کا قولی ثبوت تو یہ پیش کرتا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلِئِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ " خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب مؤمن ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کے اس دعوی ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے کوئی ان کو ہٹا نہیں سکتا وہ مضبوط ہو کر اپنے مقام پر ہمیشہ کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں تو اس وقت ان پر ملائکہ یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور