انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page ix

انوار العلوم جلد 4 تعارف کتب دلیل سورہ نور کے رکوع شے کی روشنی میں یہ بیان فرمائی ہے کہ اسلام کے ماننے والے دنیا میں معزز و مکرم ہوں گے اور ان کو ایسی روشنی دی جائے گی جس کے مقابلہ میں دنیا میں تاریکی ہوگی اور اس کیا کے مقابل میں ہی تاریخی ہوگی دلیل کے ثبوت میں حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو پیش فرمایا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو باوجود ہزار مخالفتوں کے غلبہ عطا فرمایا اور آپ کے متبعین کو قیصر وکسری با کی سلطنتیں عطا فرمائیں ۔ اور اس دور میں جبکہ خدا کا پیارا مذہب اسلام میٹ رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو مبعوث فرما کر اسلام کی خدمت اور حفاظت کا ایک ذریعہ تعالی نے مسیح موعود کو موت قرار اسلام کی خدمت اور حفاظت کا اوا عطا فرما دیا ہے اور آج مسلمانوں کے پاس اسلام کی صداقت کا اگر کوئی ثبوت ہے تو وہ حضرت مرزا صاحب کا وجود ہے۔ کیونکہ آپ بھی خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ادنیٰ حالت سے بلند سے بلند تر تر کئے جا رہے ہیں۔ (۳) معیار صداقت قادیان کے غیر احمدیوں نے اور مارچ ۹۲۱ ائہ کو ایک جلسہ کیا جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر " الحدیث مولوی محمد علی صاحب روپڑی ، مولوی میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی مولوی انور شاہ صاحب کا شمیری مدرس اعلیٰ دیو بند اور مرتضی حسن صاحب در بھنگوی و غیر ہم نے نہایت دل آزار اور اشتعال انگیز تقاریر کیں ۔ ان کے جواب میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے ۲۱ را در ۱۲ مارچ کی درمیانی شب نو بجے سے گیارہ بجے تک پر جلال و پر شوکت انداز میں مرزا گل محمد صاحب ابن مرزا نظام الدین کے مکان کے صحن میں یہ تقریر فرمائی جس میں حضور نے مذکورہ جلسہ میں ہونے والی تقاریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات اقدس پر لگائے جانے والے ناپاک الزامات و اعتراضات کا رد فرمایا اور پیچھے مدعی کی صداقت کو پہچاننے کے لئے قرآن کریم کی رو سے یہ معیار پیش فرمایا کہ :- ا پیچھے مدعی کا ماضی بے عیب و بے نقض اور روشن ہوتا ہے ۔