انوارالعلوم (جلد 6) — Page 58
انوار العلوم جلد 4 ۵۸ معیار صداقت انھوں نے بھی اپنی بہن ہی سے نکاح کیا (نعوذ باللہ من ذلک، چونکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی تھی۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت رنج ہوا اور آپ نے اس امر میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی ۔ اور الہام ہوا کہ اس گستاخی کی سزا میں اب ان کے لئے یہ بات مقرر کی جاتی اکہ اس کی سزا میں لیئے ہے کہ یہ اس لڑکی کا رشتہ آپ سے کریں اور اگر نہ کرینگے تو پھر اس اس طرح کا عذاب نازل ہو گا اور سے کریں اور اگر تو اور اسی وقت یہ الہام بھی ہوا ۔ تُونِی تُونِي فَإِنَّ الْبَلَاء على عقبات اسے عورت تو بہ کر تو بہ کرم کیونکہ بلا تیرے پیچھے آرہی ہے ۔ یہ پیشنگوئی رسول کریم کی عظمت کے اظہار کے لئے کی گئی۔ مگر مولوی خوش نہیں کہ آپ کی عظمت ظاہر ہو۔ یہ تب خوش ہوتے ہیں اور ان کے سینوں میں تب ٹھنڈک پڑتی ہے جب رسول کریم ہی کی ہتک ہو۔ غرض جب یہ معاملہ ہوا اس وقت حضرت نے پیشگوئی شائع فرمائی کہ اگر یہ نکاح مجھ سے نہ ہوا تو اس لڑکی کا والد تین سال میں اور جس سے نکاح ہو گا ڈھائی سال میں فوت ہونگے ۔ چنانچہ نکاح کے چند ماہ بعد احمد بیگ مر گیا اور اس کے مرنے سے تمام خاندان میں گہرام پڑ گیا اور مرزا سلطان محمد پر بھی خوف طاری ہو گیا اور اس نے آپ کی ہتک میں کوئی حصہ نہیں لیا ۔ اب جب اس پر خوف طاری ہوا اور اس نے اس طریق بنک سے بالکل علیحدگی رکھی جس میں دوسرے سے کا لوگ خاندان کے حصہ لے رہے تھے بلکہ یہ لکھا کہ میں مرزا صاحب کو نیک اور خادم اسلام سمجھتا ہوں تو پھر خدا اس کو کیوں سزا دیتا ۔ پیشگوئی کی غرض ان میں خدا کا خوف پیدا کرنا اور ان خیالات ہندوانہ سے توبہ کرانا تھی جن میں وہ مبتلا تھے اور یہ بات پیشگوئی کے بعد حاصل ہو گئی ۔ لڑکی کا باپ جس نے مخالفت سے تو یہ نہ کی ہلاک ہوگیا ۔ لڑکی کا خاوند خائف ہوا اور حضرت مسیح موعود کے متعلق اظہار حسن ظنی کرتا رہا۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ جن لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اس قسم کے رشتوں کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا انھوں نے اپنے خیالات کو الیسا چھوڑا کہ اپنی ایک لڑکی حضرت مسیح موعود کے ایک بیٹے کو رجو ان سے کو ایسا کہ اپنی اک حضرت کے بیٹے کو جوان سے وہی رشتہ رکھتی تھیں جو محمدی بیگم حضرت مسیح موعود سے بیاہ سے بیاہ دی ۔ جب حالات ایسے بدل گئے اور جب وہ لوگ جو مخالفت کر رہے تھے ڈر گئے تو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کو عذاب لکھتا اور اس کو کوئی جھوٹ نہیں کر سکتا۔ اگر باوجود اصلاح کرنے کے مراسلے تو یہ اندھی نگری چوپٹ راجہ والا معاملہ ہو گا جن لوگوں نے ان میں سے سرکشی کی وہ سب ہلاکت اور عذاب میں گرفتار ہوئے۔ اس پیشگوئٹی کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ میں اس گھر کو دس میں آج تقریر ہو رہی ہے) بیواؤں سے بھر دونگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ اگر وہ لوگ زندہ ہوتے تو ہمیں یہاں لیکچر کا موقع کیسے ملنا۔