انوارالعلوم (جلد 6) — Page 43
انوار العلوم جلد 4 ۴۳ معیار صداقت رہا ہوں اس لیئے ہیں کیوں خوشامد کرتا ۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو میں بعض اوقات نقصان اُٹھاتا ہوں اور مسٹر محمد علی و شوکت علی نہیں اُٹھاتے۔ اس لئے کہ گورنمنٹ میرے متعلق خیال کرتی ہے کہ اس کے ساتھ تھوڑے آدمی ہیں اور محمد علی اور شوکت علی کے ساتھ زیادہ ہیں ۔ وہ ان سے ڈر جاتی ہے لیکن ہمارے حقوق کو بعض اوقات پامال کر دیتی ہے۔ پس ہمیں کوئی زائد فائدہ نہیں مل رہا جس کے لئے ہم خوشامد کریں ۔ ہمیں گورنمنٹ کے حکام سے بھی بعض اوقات نقصان اُٹھانا پڑتا ہے کیونکہ وہ لوگ آخر ہندو یا مسلمان ہی ہوتے ہیں اور چونکہ ہمارے خیالات ان کو نئے معلوم ہوتے ہیں طبعاً وہ ان سے نفرت کرتے ہیں ۔ پس ہم جو گورنمنٹ کی تائید کرتے ہیں اس میں ہمارا کوئی خاص نفع نہیں بلکہ ہمیں خواہ اس سے نقصان پہنچے ہم اس کی تائید کرینگے ۔ کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم جس گورنمنٹ کے ماتحت ہوں اس کی اطاعت کریں ۔ اگر وہ ظلم کرے تو ہم اس کے ملک میں رہ کر اس کے خلاف کچھ نہیں کرینگے بلکہ اس کے ظلم سے نکل جائیں گے اور اس کا ملک چھوڑ دینگے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ احمدی کچھ دنوں بعد دیکھیں گے کہ گورنمنٹ ان سے کیسی غداری کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب ہماری وفاداری کی بنیاد گورنمنٹ سے اُمید پر ہے ہی نہیں تو گورنمنٹ ہم سے کیا غداری کریگی ۔ اب وہ ہمیں کیا زائد نفع پہنچاتی ہے جو آئندہ پہنچائے گی۔ تھا۔ اگر ذاتی طور پر دیکھا جائے تو بھی معلوم ہو گا کہ ہمارے خاندان کو گورنمنٹ سے خاص فائدہ نہیں پہنچا بلکہ نقصان پہنچا ہے۔ ہمارا خاندان اس علاقہ کا حکم اور مالک تھا۔ یہ علاقہ ہم سے جاتا رہا مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب جن کو جابر بادشاہ کہا جاتا ہے انھوں نے ہمارا کچھ علاقہ واپس کر دیا تھا اور ہماری ملکیت کو تسلیم کیا تھا۔ جب انگریزی راج آیا تو انگریزی عدالتوں نے ہمارا باقی علاقہ تو کیا ایں کرنا تھا یہ فیصلہ کر دیا کہ ان کا کوئی حق نہیں اس طرح وہ علاقہ بھی جاتا رہا۔ مگر پنجاب چیفس کی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ واقعی وہ علاقہ ان کا ہے ۔ غلطیاں ہر گورنمنٹ سے ہوتی ہیں اور اپنی طرف سے ان کی امانت رکھتی ہے اور یہ اور قانون ایک بہت بڑی خوبی ہے ۔ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ہونی چاہئیں۔ کیونکہ یہ انسانی حکومت ہے اگر اسلامی حکومت ہو تو اس سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں ۔