انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 44

انوار العلوم جلد 4 ۴۴ معیار صداقت ہم موجودہ صورت میں عدم تعاون کو غلط سمجھتے ہیں اس لئے ہم مذہباً عدم تعاون کے طریق پر کار بند نہیں ہو سکتے لیکن یہ لوگ ہم سے زیادہ مجرم ہی کہ باوجود یہ طریق اختیار کرنے کے پھر تعاون کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں کا بج چھوڑے مدر سے چھوڑے اور ہمارے لڑکوں کو مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور ہماری لاہور کی جماعت کے پریزیڈنٹ کو خط لکھا گیا کہ یا تو آپ کے طلباء کالج میں نہ جاویں ورنہ ہم ان کو مارینگے لیکن ہمارے طلباء چونکہ اس مسئلہ کو غلط جانتے ہیں اس لئے وہ ان کے ساتھ اس غلطی میں نہ شامل ہو سکتے تھے نہ ہوئے ۔ اگر چہ ان میں سے بعض کے ساتھ بہت برا سلوک بھی کیا گیا ۔ مگر چند روز کے بعد وہ جوش ٹھنڈے ہو گئے اور وہی جو دوسروں کو مار مار کر مجبور کرتے تھے کہ کالج چھوڑیں خود واپس آگئے اور پھر شرمندگی کے ساتھ دعوی بھی کرنے لگے کہ ہم نے کچھ کیا تو سی۔ حالانکہ جو کچھ انھوں نے کیا یہ ایسا تھا کہ اگر نہ کرتے تو بہت اچھا تھا ۔ انھوں نے جو کارروائی کی اس سے اپنے لیڈروں کو ذلت پہنچائی اور اس تحریک کو بے وزن کر دیا۔ ہمارا اور ان کا نقطۂ نگاہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا نقطہ نگاہ ان کے نقطۂ نگاہ سے اعلیٰ ہے ہمارا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ دین پھیل جائے اور ان کا محض یہ خیال ہے کہ دنیا ان کو مل جائے ۔ یہیں اسلام تباہ ہوتا ہوا نظر آرہا تھا اور یہ اس کی طرف سے غافل ہیں ۔ ابھی میں سال بھی نہیں گزرے کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں میں یہ خیالات پھیلے ہوئے تھے کہ خلیفہ المین سلطان ترکی کی فوج ۲ کروڑ ہے اور تمام یورپ کی حکومتوں کے سفیر جب سلطان کی سواری نکلتی ہے رکا میں تھام تھام کر ساتھ چلتے ہیں ۔ اگر چہ جتنی وہ فوج بتلاتے تھے اتنی اس کے ملک کی آبادی ہی ہوگی ۔ یہ لوگ اس قسم کی شان و شوکت کے خیالات میں مست تھے اور ادھر اور اقوام تو الگ رہیں سید زادے جن کی تمام تر عزت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تھی اسلام کو چھوڑ چھوڑ کر عیسائیت کا جامہ پہن رہے تھے اور سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوگندی سے گندی گالیاں دیتے تھے اور صرف ہندوستان میں مسلمانوں میں سے قریباً پانچ لاکھ کے قریب لوگ عیسائی ہو چکے تھے ۔ اس حالت کو دیکھ کر آج سے چالیس برس پہلے ایک خدا کے مرد نے کھڑے ہو کہ آواز دی اور کہا کہ مسلمانو ! ہوشیار ہو جاؤ۔ اب بھی وقت ہے کہ تم غفلت چھوڑ دو اور اسلام کی حفاظت کی فکر کرو ۔ مگر مسلمانوں نے اس آواز کو حقیر سمجھا ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام تو عین عروج پر ہے ۔ ہمیں سلطنت کی ضرورت ہے اس کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔ یہیں مذہب کی فکر ہے اور ان کو