انوارالعلوم (جلد 6) — Page 42
انوار العلوم جلد 1 ۴۲ معیار صداقت تبلیغ اسلام کے یہ کام بھی کر رہا ہے اور کئی اخبارات میں ترکوں کی تائید میں آرٹیکل لکھے گئے ہیں غرض ہماری طرف سے باوجود ترکوں سے بے تعلق ہونے کے محض اسلام کے نام میں شرکت رکھنے کے باعث ان کے لئے اس قدر جدو جہد کی گئی ہے۔ مگر ترکوں نے ہمارے لئے کیا کیا جب ہمارے بعض آدمی ان کے علاقے میں گئے تو ان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ تو یہ لوگ کس قدر ناشکر گذار ہیں کہ با وجود اس قدر کوشش کے پھر ہمارے خلاف ایسے ایسے منصوبے کرتے اور اس قدر بدارا دوں کے ساتھ آتے ہیں۔ ہمارے مخالفوں کا بلے اُصولا پن ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ان کی خاطر گورنمنٹ سے بگاڑ ہیں اور عدم کریں۔ مگر یہ ہیں اور عدم تعاون کریں۔ مگر یہ واعظین عدم تعاون جو ساری دنیا کو عدم تعاون کے لئے مجبور کرتے اور ہمارے خلاف اس لئے جوش میں اندھے ہیں ہم ساتھ کے باوجود ہو جاتے ہیں کہ ہم عدم تعاون نہیں کرتے خود اس قسم کے ارادوں کے ساتھ آنے کے باوجود اپنے جلسہ میں جب سرکاری مجسٹریٹ اور پولیس کو دیکھتے ہیں تو ان کی تعریف کرتے کرتے ان کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں۔ ہم عدم تعاون کو خلاف اسلام خیال کرتے ہیں اس لئے ہم پولیس وغیرہ سے اگر مدد لیں تو ہمارے مذہب کی رو سے نا جائز نہیں ۔ مگر یہ جو عدم تعاون کے قائل ہیں ان کا تو فرض تھا کہ مجسٹریٹ اور پولیس کو اپنے جلسہ میں قدم نہ رکھنے دیتے اور کہتے کہ جائیے ہم اپنا انتظام آپ کرینگے ۔ یوں تو عدم تعاون پر یہ زور اور جلسہ میں ان کی تعریف اور خوشامد کی جائے ۔ حالانکہ ان سے تعاون ان کی شریعت کی رو سے حرام ہے۔ یہیں مجسٹریٹ اور پولیس کا ان کے جلسہ میں ہونا ان کے لئے کلنک کا ٹیکا تھا تو وہ جن بد ارادوں کے ساتھ آئے تھے ان میں سخت محرومی کے ساتھ وہ یہاں سے واپس ہوئے اور یہ خدا کا عین فضل اور کرم ہے۔ ظالم گورنمنٹ کے مقابلہ میں مارا رویہ ہم بناوت کے لئے بھی تیار تھے نہیں نہ ہمارا رویہ ان کی ظالمانہ ہو ہمارے تو ه نزدیک گوری ہو جائیگی جس کا ظلم نا قابل برداشت ہوگا تو ہم اس کا ملک چھوڑ دینگے۔ کیا ہم گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں ہیں کہا جاتا ہے کہ ہم اس گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ وہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ اس گورنمنٹ سے ہمیں کونسا زائد فائدہ ملتا ہے۔ جتنا کہ با وجود مخالفت کے مسٹر گاندھی اور مسٹ محمد علی و شوکت علی اُٹھا رہے ہیں۔ گورنمنٹ سے جو ایک ایکسٹریمیسٹ فائدہ اُٹھا رہا ہے وہی میں بھی لے EXTREMIST