انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 555

دعوت علماء ۵۵۵ انوار العلوم جلد 4 زبر دست دلائل اور خدا کی تائید ساتھ نہ ہو انسان اپنے فیصلہ میں غلطی کر سکتا ہے ۔ ابھی دیکھیئے ایک سال کے قریب ہی عرصہ ہوا کہ قریباً تمام علماء نے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ ہندو که قریباً تمام علماء نے یہ فتوی دے دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور اب یہاں سے ہجرت کر جانا چاہتے ۔ کس شان سے ہجرت کی تیاریاں ہوئیں مگر پھر کیا انجام ہوا ؟ شریعت کی بناء پر یہ فیصلہ دیا گیا تھا وہ شریعت اب بھی اسی طرح موجود ہے اور وہ حالات بھی اب تک موجود ہیں مگرہ ہجرت کا حکم منسوخ کرنا پڑا یہ جلد بازی کا نتیجہ تھا میں نے اس وقت بھی کہہ دیا تھا کہ یہ کام اچھا نہیں اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے اس کا انجام اچھا نہ ہو گا اور دشمنوں کو اس پر منی کا موقع ملے گا چنانچہ اسی طرح ہوا ۔ ۔ اسی طرح نان کو آپریشن کا فیصلہ تمام ہندوستان کے علماء نے آیات قرآنیہ کی بناء پر کیا اور بعض کے نزدیک تو گویا سارا قرآن کریم ہی اسی غرض سے نازل ہوا تھا مگر باوجود اس کے اب تک سرکارہ کا کوئی دفتر یا کوئی محکمہ خالی نہیں ہوا بلکہ خود مفتیان اپنی اغراض و مقاصد کے لئے سرکار سے تعلقات قائم کرتے ہیں اور خود اپنے بیان کردہ فتویٰ کے خلاف کر رہے ہیں ۔ یہ جوش بھی اب کم ہو رہا ہے اور تھوڑے دنوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا اور صرف اس قدر اثر اس کا باقی رہ جائے گا کہ دشمنان اسلام اسلام کے خلاف اس فتوی کو پیش کرتے رہیں گے۔ اس کے کو متعلق بھی میں نے بڑے زور سے مسلمانوں کو نصیحت کی تھی لیکن گو اس وقت ان کو وہ نصیحت بڑی معلوم ہوئی مگر آج بہت سے لوگوں کے دل اس کی قدر محسوس کر رہے ہیں اور آئندہ اور بھی کریں گے ۔ عرض انسان غلطی سے پاک نہیں ہے اور غلطیاں اس سے ہو جاتی ہیں پس اس امر میں بھی آپ کو اس قدر اصرار سے کام نہیں لینا چاہئے اور سچے دل سے غور کرنا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ اس نعمت سے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے اُتاری ہے آپ محروم رہ جائیں۔ اگر یہ صورت فیصلہ بھی آپ کو منظور نہ ہو تو پھر ایک اور صورت میں پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَكُمْ وَانْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ تَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ال عمران : ۶۲) مباہلہ کر لیا جائے ۔ میں یہ تجویز غصہ اور رنج کے ساتھ نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کو مد نظر رکھ کر پیش کر رہا ہوں اور امید ہے کہ آپ لوگ بھی اس کو اسی نظر سے دکھیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہم لوگ رحیم نہیں ہو سکتے ہیں اگر بعض حالات میں آپ کو بھی NON COOPERATION *